خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 40

$1953 40 40 خطبات محمود کہ کیا آپ فلاں جگہ گئے تھے؟ تو وہ یہ جواب نہیں دیں گے کہ ہم وہاں گئے تھے یا نہیں گئے تھے۔وہ "ہاں" اس لیے نہیں کہتے کہ شستی کی وجہ سے انہوں نے کام نہیں کیا۔اور جہاں انہیں جانے کے لیے کہا گیا تھا وہاں نہیں گئے۔اور " نہیں گئے " اس لیے نہیں کہتے کہ اُن کا جرم پکڑا گیا ہے۔وہ ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ حضور ! اصل بات یہ ہے کہ فلاں نے فلاں بات کی تھی اور اس کا مطلب اصل میں یوں تھا۔میں نے اس سے یہ سمجھا اور اس طرح لمبی بات کرنی شروع کر دیں گے۔وہ سیدھا یہ نہیں کہیں گے کہ میں فلاں جگہ نہیں گیا بلکہ بات کو چھپانے کی کوشش کریں گے۔اگر جواب "ہاں" ہوتا ہے تو وہ ہاں میں جواب نہیں دیتے۔اور اگر جواب " نہیں " ہوتا ہے تو وہ " نہیں " میں جواب نہیں دیتے۔یہ ثبوت ہوتا ہے ہے اس بات کا کہ وہ اپنی سستی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔حالانکہ اپنی سستی پر پردہ ڈال کر بات تو ہو جاتی ہے لیکن اصلاح نہیں ہو سکتی۔حالانکہ سچائی ایک ایسی چیز ہے جس سے اخلاق کی اصلاح ہوتی ہے، خاندان کی اصلاح ہوتی ہے اور قوم کی اصلاح ہوتی ہے۔پس میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپ سچائی کو اختیار کریں اور یہ کوئی مشکل بات نہیں۔آخر دنیا میں ہزاروں ہزارراستباز گزرے ہیں اس لیے یہ کوئی ایسی بات نہیں جو نہیں ہو سکتی۔تم فیصلہ کر لو کہ ہم نے سچ بولنا ہے چاہے اس کے بدلہ میں ہم ذلیل ہوں ،شرمندہ ہوں یا ہمیں کوئی اور نقصان اٹھانا ہے ہے۔پھر دیکھو تمہارے اخلاق کی کتنی جلدی درستی ہو جاتی ہے۔پس میں ان مختصر الفاظ میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ سچائی کو اختیار کریں۔بات مختصر ہے لیکن ہے بہت بڑی۔کہنے کو تو یہ ایک منٹ میں کہی جاسکتی ہے لیکن نتیجہ اس کا صدیوں کی بھلائی اور قومی ترقی ہے۔الفضل 14 فروری1953ء)