خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 328

$1953 328 خطبات محمود ایسی تدابیر بتاتے ہیں۔لیکن میں اس طرح ہمیشہ بیمار ہو جاتا ہوں۔پس میں ان تدابیر پر عمل کرنے کی کوشش تو کروں گا۔لیکن بظاہر ایسا کرنا میرے لیے مشکل ہے۔گلے کی تکلیف کے علاوہ جو دوسری بیماریاں تھیں۔اُن کے لمبے امتحانات کئے گئے۔خون ٹیسٹ کیا گیا اور مختلف حالتوں کے ایکسرے بھی لئے گئے۔مجھے شبہ پڑتا تھا اور ڈاکٹروں کو بھی بعض علامات سے شبہ پڑا کہ پیٹ کے اندر رسولی نہ پیدا ہوگئی ہو۔لیکن ایکسرے سے یہ شبہ دور ہو گیا گوانتڑیوں میں سوزش پائی گئی ہے۔بہر حال میں دوائیاں لے آیا ہوں۔بیماری کی بنیاد ڈاکٹری اصول کے لحاظ سے ایسی چیزوں پر ہے جو زیادہ اہم نہیں۔ڈاکٹر اس نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہے ہیں کہ کوئی بیماری ایسی نہیں جو فوراً مہلک ہو اور زیادہ سخت ہو۔لیکن انسانی طبیعت ڈاکٹری اصول کے بالکل الٹ دیکھتی ہے۔طبیعت یہ کہتی ہے کہ اگر ایک شخص تریسٹھ چونسٹھ سال کا ہو گیا ہے۔اُس کا کے اعضاء اور گوشت بیماری کا مقابلہ نہیں کرتے تو یہ زیادہ خطر ناک ہے بہ نسبت اس کے کہ کوئی معتین مرض ہو۔کیونکہ معتین مرض کا علاج کیا جاسکتا ہے۔لیکن ایک خاص عمر تک پہنچنے کے بعد جسم میں بیماری کا مقابلہ کرنے کے لیے طاقت نہیں ہوتی۔بڑی عمر والے کا بخار تو تو ڑا جا سکتا ہے، بڑی عمر والے شخص کے جگر کی اصلاح کی جاسکتی ہے بلکہ اب بعض طریقوں سے سرطان اور کینسر کا علاج بھی ہوسکتا ہے۔لیکن یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ اس عمر والے کو بیس پچیس سال کی عمر کی طاقت دے دی جائے۔جو عام بیماریوں کا مقابلہ کر سکے۔اس لیے ڈاکٹر کی نظر میں جو بیماری کم ہے در حقیقت کی طبیعت کے فیصلہ کے مطابق وہ بہت زیادہ ہے کیونکہ اس کا علاج معلوم نہیں ہو سکا۔دنیا میں کوئی ایسا طبیب نہیں جو ساٹھ ستر سال کی عمر والے شخص کو بیس پچیس سال کی عمر کا بنا سکے۔آج میں حسب دستور سابق تحریک جدید کے وعدوں کے لیے جماعت میں تحریک کرنا چاہتا ہوں۔پہلے دفتر کے لوگوں کے لیے بھی کہ جن کے لیے ابتداء تین سالوں کی تحریک کی گئی۔اور ان تین سالوں کو بعض لوگ ایک ہی سال سمجھتے رہے۔پھر وہ تحریک دس سال تک ممتند کی گئی۔پھر اس کے لیے انیس سال کی حد لگائی گئی۔اس سال خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ انہیں سال بھی پورے ہو جاتے ہیں۔اس اثناء میں تحریک جدید کے کام کو وسیع کرنے کے بعد خدا تعالیٰ نے میرا ذہن اس طرف پھیرا کہ تمہارے منہ سے جو عر صے بیان کروائے گئے تھے وہ محض کمزور لوگوں کو ی