خطبات محمود (جلد 34) — Page 306
$1953 306 37 خطبات محمود ربوہ وہ مقام ہے جہاں پر تم محض خدا تعالیٰ کی خاطر ہجرت کر کے آباد ہوئے ہو (فرموده 30 اکتوبر 1953ء بمقام ربوہ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔دو کسی فارسی شاعر نے کہا ہے۔ہر سخن وقتے و پرنکته مقامی دارد یعنی ہر بات کا ایک محل ہوتا ہے اور ہر نکتہ ایک مقام رکھتا ہے۔جب کوئی بے محل بات کی جائے تو وہ طبیعتوں پر گراں گزرتی ہے اور جب کوئی بے موقع نکتہ بیان کیا جائے تو وہ بھی شاق گزرتا ہے۔اسی طرح اگر کسی محل کے مطابق کوئی ضرورت ہو اور وہ پوری نہ کی جائے تو وہ بھی طبیعتوں پر گراں گزرتی ہے۔اور اگر کسی جگہ کوئی نکتہ بیان کرنے کی ضرورت ہو اور وہ بیان نہ کیا جائے تو بھی طبیعتیں اُسے پسند نہیں کرتیں۔یہ ایک شاعر کا کلام ہے۔لیکن یہ کلام اپنے اندر ایک حکمت رکھتا ہے۔اس کے اندر ایک صداقت بیان کی گئی ہے جس کا انکار انسانی عقل اور سمجھ نہیں کر سکتی۔کوئی بات جو بے موقع کہی جائے طبائع اُسے نا پسند کرتی ہیں اور اُسے بے وقوفی جماعت یا بچپن قرار دیتی ہیں۔