خطبات محمود (جلد 33) — Page 44
1952 44 خطبات محمود دوسر۔خدا کرے کہ سندھ دوبارہ ہندوستان میں اسلام کو پھیلانے کا اڈہ بن جائے۔ملکی تقسیم اس لئے کی ہوئی تھی کہ ہم نے تبلیغ کی طرف توجہ نہیں کی تھی۔سات آٹھ سو سال کا عرصہ ہمیں ملا تھا۔اگر ہم اس عرصہ میں پوری طرح تبلیغ کرتے تو آج ہمیں ہندوستان میں ایک ہندو بھی نظر نہ آتا۔رے مسلمانوں کی غفلت تو سمجھ میں آسکتی ہے لیکن احمدیوں کی غفلت سمجھ میں نہیں آسکتی۔جو ج قوم حق پر ہوگی لازماً دنیا اس کی دشمن ہو گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیثیت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی سی ہے۔اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے متعلق بائیبل میں آتا ہے کہ اس کی کے خلاف ہمیشہ اس کے بھائیوں کی تلوار کھینچی رہے گی۔3 اس میں یہی پیشگوئی تھی کہ آپ کی نسل کی تبلیغ کرے گی اور جو شخص تبلیغ کرے گا دنیا اُس کی دشمن ہو جائے گی۔اور دشمن سے محفوظ رہنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ ہم اُسے مسلمان کر دیں۔اس کے بغیر اسلام اور احمدیت بچ نہیں سکتے۔اگر ہم تبلیغ میں سست ہوں گے تو پچھلے دنوں جو کچھ ہندوستان میں ہوا وہی دوسرے ممالک میں بھی ہوگا۔صداقت بہر حال غالب ہو کر رہے گی اور چونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک دن صداقت غالب آجائے گی اور وہ مٹ جائیں گے اس لئے وہ صداقت کے دشمن ہو جاتے ہیں۔تمہارا فرض ہے کہ اپنے اندر بیداری پیدا کرو، تبلیغ کرو اور جماعت کو وسیع کرتے چلے جاؤ یہاں تک کہ کوئی تج آدمی ایسا نہ رہے جو احمدیت میں شامل نہ ہو۔اور اگر کچھ لوگ احمدیت سے باہر رہ جائیں تو وہ مج تھوڑے ہوں۔اس طرح ہم محفوظ ہو جائیں گے اور دشمن کی تلوار کٹ جائے گی۔پس تبلیغ نہایت اہم چیز ہے اور اس سے غفلت برتنا نہایت خطرناک امر ہے۔لیکن یہاں یہ حالت ہے کہ میں نے کوشش کر کے ایک مبلغ کو یہاں بھجوایا تھا اور وہ محمد آباد میں کام کر رہا تھا یہاں آکر مجھے پتا لگا کہ اُسے واپس بلا لیا گیا ہے۔اس کی تو میں تحقیقات کروں گا۔لیکن مجھے تعجب ہے کہ یہاں سے کسی نے بھی میرے پاس شکایت نہیں کی کہ ہمارے علاقہ کے مبلغ کو واپس بلا لیا گیا ہے۔اگر تم میں تبلیغ کا جوش ہوتا تو تم میں سے کوئی ایک شخص تو ایسا ہوتا جو مجھے اطلاع دیتا کہ کی ہمارا مبلغ واپس بلا لیا گیا ہے۔ہم نے وعدہ کیا تھا کہ اُس مبلغ کی تنخواہ ہم دیں گے۔اگر ہم تنخواہ دیتے تو مبلغ کو واپس نہ بلایا جاتا۔معلوم ہوتا ہے کہ احمد یہ اسٹیٹس نے اُن کی تنخواہ کا بوجھ خود نہیں اُٹھایا اس لئے نظارت دعوت کو مبلغ واپس لینے کی جرأت ہوئی۔اگر خدا تعالیٰ نے تمہیں زیادہ تھی