خطبات محمود (جلد 33) — Page 362
1952 362 خطبات محمود - قادیان میں آخری دو جلسوں میں آئے تھے۔لیکن ان کی تعداد اب بہت حد تک اُن کے قریب پہنچ گئی ہے۔کچھ تو اس وجہ سے کہ تقسیم ملک کی وجہ سے جو مصائب جماعت پر اور دوسرے لوگوں پر آئے اُن کی وجہ سے لوگ ایک حد تک بیدار ہو گئے ہیں۔اور کچھ اس لئے کہ ربوہ ایسے مقام پر واقع ہے جہاں سے ریل بھی گزرتی ہے اور لاریاں بھی خوب گزرتی ہیں۔مجھ سے کسی نے بیان کی کیا تھا کہ صرف ایک طرف کی سولاریاں روزانہ ربوہ سے گزرتی ہیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر روز ربوہ کے پاس سے اڑھائی تین ہزار سواریاں گزر جاتی ہیں۔ان مسافروں میں سے کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے دلوں میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ہم منزل مقصود پر آسانی سے کی پہنچ جائیں گے۔چلو ایک آدھ دن کے لئے یہاں ٹھہر جائیں اور وہ یہاں اُتر جاتے ہیں۔قادیان میں یہ سہولت میسر نہیں تھی۔قادیان رستہ چھوڑ کر واقع تھا۔کوئی پختہ سڑک نہیں تھی جو شہر کے پاس سے گزرتی ہو۔اس لئے لاریوں کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ہاں ریل قادیان جاتی تھی لیکن وہ بھی وہیں ختم ہو جاتی تھی۔آگے نہیں جاتی تھی۔اس لئے وہاں وہی لوگ جاتے تھے جو ارادہ قادیان جانے کے لئے گھروں سے روانہ ہوتے تھے۔لیکن یہاں ریل آتی ہے اور پھر یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ وہ آگے گزر جاتی ہے۔اور اس طرح دونوں طرف کی سواریاں یہاں سے گزرتی ہیں۔اور پھر سر گودھا اور لائل پور کے تعلق کی وجہ سے لا ریاں اتنی گزرتی ہیں کہ جلسہ دیکھنے کی خواہش رکھنے والے مسافروں کو کچھ دیر یہاں ٹھہرنے کا موقع مل جاتا ہے۔بہر حال ربوہ آبادی کے لحاظ سے ابھی قادیان سے بہت چھوٹا ہے۔قادیان کی آبادی پندرہ ہزار کے قریب تھی۔لیکن ربوہ کی آبادی ابھی ساڑھے تین ہزار یا پونے چار ہزار نفوس پر کی مشتمل ہے گو جلد جلد بڑھ رہی ہے۔گویار بوہ کی آبادی ابھی قادیان کی آبادی کا ایک چوتھائی ہے ج اور جلسہ پر آنے والوں کی تعداد قادیان میں آنے والوں کی نسبت 70 ، 80 فیصدی تک پہنچ چکی ہے۔گویا جن مہمانوں کی خدمت پہلے سو آدمیوں کو کرنی پڑتی تھی اب ان کے 70، 80 فیصدی مہمانوں کی خدمت 25 آدمیوں کو کرنی پڑتی ہے۔اس لئے اب پہلے کی نسبت زیادہ محنت اور توجہ کی ضرورت ہے۔میں باہر سے آنے والوں کو بھی اِس طرف توجہ دلاتا ہوں۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ جلسہ سالانہ پر نہ آئیں۔وہ جلسہ سالانہ پر آئیں اور خوب آئیں۔اور غیر از جماعت دوستوں کو اپنے ساتھ لائیں۔