خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 276

1952 276 خطبات محمود اپنی زندگی اس رنگ میں گزاری کہ پرانے احمدی بن گئے۔ان کے بھائی ڈاکٹر غلام دستگیر صاحب کی ان سے پہلے کے احمدی تھے اور سید محمد اشرف صاحب اُن دنوں سخت مخالف تھے۔مجھے یاد ہے 1905ء میں میری آنکھوں میں لگرے پڑے ہوئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے علاج کے لئے لاہور بھجوا دیا۔جہاں میرے کئی آپریشن ہوئے۔میر محمد اسماعیل صاحب اُن دنوں وہاں ہاؤس سرجن تھے۔میر صاحب کو رہنے کے لئے جو جگہ ملی تھی اُس کے ساتھ ایک نو کر خانہ تھا۔اُس نو کر خانہ میں ایک آدمی آتا جاتا تھا۔شام کو آتا اور صبح کو چلا جاتا تھا۔میں نے میر صاحب سے دریافت کیا کہ یہ شخص کون ہے؟ تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کا نام غلام دستگیر ہے ، ڈاکٹری میں پڑھتے ہیں، یہاں رہتے ہیں اور یہیں کھانا پکاتے ہیں۔ان کے بھائی سخت مخالف ہیں اس لئے انہیں دقت ہے پس اصل میں ڈاکٹر صاحب ان سے پہلے احمدی تھے۔ہاں جب یہ احمدی ہوئے تو ان میں اتنا جوش پیدا ہو گیا کہ ہر مجلس اور ہر کام میں حصہ لیتے تھے۔اس لئے لوگ انہیں پرانا احمدی سمجھنے لگے چند دن ہوئے ربوہ میں زمین لینے کے خیال سے آئے تھے۔میں نے کہا کہ اب زمین ختم ہو گئی ہے۔ہاں اگر اور زمین خریدی گئی تو آپ کو مل سکے گی۔اس پر وہ واپس چلے گئے اور چند ہفتوں کے بعد ان کی وفات کی خبرا چانک ملی۔میاں عبد الرحمن صاحب چک نمبر 203 جھڈو گرام سندھ میں فوت ہو گئے ہیں۔جنازہ کی میں بہت کم احمدی دوست شریک ہوئے۔والدہ صاحبہ جمعدار محمد افضل خاں صاحب وفات پاگئی ہیں۔بہت تھوڑے احمدی دوست جنازہ میں شریک ہوئے۔چودھری محمد عبد اللہ صاحب لائل پوری در ویش قادیان وفات پاگئے ہیں۔یہ موصی تھے اور اپنی ساری جائیداد خدمت سلسلہ کے لئے وقف کر چکے تھے۔پھر اپنی زندگی وقف کر کے قادیان چلے گئے۔یہ پہلے قادیان میں نہیں رہتے تھے فساد کے بعد قادیان گئے۔مولوی تاج الدین صاحب لائل پوری قاضی سلسلہ کے بڑے بھائی تھے۔میر مرید احمد صاحب تالپور سندھ، حال میں ان کی وفات کی خبر آئی ہے۔بہت کم لوگ جنازہ میں شریک ہوئے۔میر صاحب ریاست خیر پور کے شاہی خاندان میں سے تھے۔طالب علمی