خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 183

1952 183 خطبات محمود تصویر تم دیکھو گے کہ وہ تمہارے اندر پسندیدگی کا جذبہ پیدا کرے گی بلکہ پسندیدگی کے جذبہ سے زیادہ تمہارے اندر یہ جذبہ پیدا ہو گا کہ تم اس چیز کو خود دیکھو۔جب کوئی شخص سوئٹزر لینڈ ، امریکہ اور انگلینڈ وغیرہ ممالک کے نظاروں اور اُن کی تہذیب کے نظاروں کی تصویر میں دیکھتا ہے تو اُس کی کے اندر یہ جذبہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ یہ جگہیں خود جا کر دیکھے۔غرض جب انسان اظلال کو دیکھتا ہے کی تو اس کی توجہ فوراً اصل کی طرف جاتی ہے۔مثلاً وہ نماز پڑھتا ہے جو اُسے پسند ہے، وہ حج کرتا ہے جو اُ سے پسند ہے، وہ زکوۃ دیتا ہے جو اُ سے پسند ہے، وہ صدقہ و خیرات کرتا ہے جو اسے پسند ہے، وہ قومی خدمات کرتا ہے جو اسے پسند ہیں اور قربانی اور ایثار کا نمونہ دکھاتا ہے جوا سے پسند ہے۔تو یہ ساری چیزیں اظلال ہیں صفات الہیہ کا۔ان کی اور کوئی حیثیت نہیں۔ان کی غرض محض یہ ہے کہ ان اظلال کو دیکھ کر اصل کی طرف توجہ اور رغبت ہو۔ایک ایسی چیز جو فنا ہونے والی ہے جس کا حقیقی وجود کوئی نہیں وہ مقصود نہیں ہو سکتی۔پس جب کہ حقیقت خدا تعالیٰ ہے جو دائمی ہے اور ازلی ابدی ہے تو ان اظلال سے اُس کی طرف جانے کی توجہ ہونی چاہیئے۔یہ الگ بات ہے کہ کسی کے دل میں خدا تعالیٰ پر یقین نہ ہو۔لیکن سوال یہ ہے کہ اُسے کسی نہ کسی چیز پر یقین تو ہوتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ نہیں تو کیا چیز باقی رہ جاتی ہے جس پر وہ یقین کرتا ہے۔اگر ماحول، ابتدا اور آخر کو دیکھ کر کسی چیز کا وجود نظر نہیں آتا تو وہ سارا خیال اور وہم ہے۔پس یا خدا تعالیٰ ہے یا سب کچھ محض و ہم اور خیال ہے۔اگر کسی شخص کو اظلال اصل چیز کی طرف توجہ نہیں دلاتے تو معلوم ہوا کہ اُس کی کے جذبات غیر طبعی ہیں۔مثلاً اگر وہ کسی بڑے دریا کی تصویر دیکھتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ یہ کتنا بڑا دریا ہے جو چکر کھاتا ہوا دور تک نکل جاتا ہے، اس سے آبشار میں نکلتی ہیں اور وہ اسے نہایت پسند کرتا ہے لیکن اس کے اندر یہ خواہش پیدا نہیں ہوتی کہ وہ اس دریا کو اپنی شکل میں دیکھے تو اس کی پسندیدگی اور رغبت غیر طبعی ہے۔اگر اس کی پسندیدگی اور رغبت طبعی ہوتی تو تصویر دیکھ کر اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو جاتی کہ کاش! اسے اصل چیز کو دیکھنے کا موقع مل جائے۔بعض دفعہ ایک طبعی خواہش بھی حد سے گزر جائے تو عجیب معلوم ہونے لگتی ہے۔ایک دوست جوا بھی زندہ ہیں اُن کی عادت تھی کہ جب کبھی اُن کے سامنے کسی چیز کا ذکر ہوتا اور انہیں کہا جاتا کہ چلو فلاں چیز دیکھیں مثلاً کوئی میچ ہے یا کوئی اور نظارہ ہے اور انہیں کہا جاتا کہ چلو فلاں میچ یا نظارہ دیکھ آئیں تو طالب علمی کے وقت میں اُن کی طرف سے ہمیشہ یہ جواب ملتا تھا کہ وہ چیز کی