خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 166

1952 166 (19) خطبات محمود رمضان بڑی برکتیں لے کر آتا ہے۔مومن کو چاہیے کہ اس سے فائدہ اُٹھائے ( فرموده 6 جون 1952ء بمقام ربوہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت فرمائی: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ) - 1 اس کے بعد فرمایا : آج رمضان کا دوسرا جمعہ ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے روزوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے مسلمانوں کو پہلے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ القِيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ۔دنیا میں بعض تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں جو منفرد ہوتی ہیں۔اکیلے انسان پر آتی ہیں اور وہ ان سے گھبراتا ہے ، شکوہ کرتا ہے کہ میں ان کی تکالیف کے برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔لیکن بعض تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں جن میں ہے سارے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ان تکالیف پر جب کوئی انسان گھبراتا ہے ، شکوہ کرتا ہے تو لوگ اسے یہ کہ کر تسلی دیا کرتے ہیں کہ میاں! یہ دن سب پر آتے ہیں اور کوئی شخص اُمید نہیں کر سکتا کہ وہ ان تکلیفوں سے بچ جائے۔کوئی عقلمند یہ کوشش نہیں کرتا کہ وہ ان تکلیفوں سے بچ جائے۔مثلاً موت ہے۔موت ہر انسان پر آتی ہے۔دنیا میں کوئی احمق سے احمق انسان بھی ایسا نہیں مل سکتا تجھے