خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 23

$1951 23 خطبات محمود کہ وہ پوپ کی ناراضگی کو برداشت نہیں کر سکتے۔وہ اپنی ہلاکت دیکھ رہے ہیں، وہ اپنی تباہی دیکھ رہے ہیں، وہ اپنی بربادی دیکھ رہے ہیں مگر یہ جرات نہیں کر سکتے کہ پوپ کی رضامندی کے خلاف کوئی قدم اٹھا ئیں۔تو دیکھو ایک جتھے کا نتیجہ کتنا عظیم الشان ہوتا ہے اور اس میں کتنی بڑی طاقت پائی جاتی ہے۔اسلام کا جتھا تو ایک زندہ جتھا ہے اور اسلام جس نظام کو قائم کرتا ہے اس کی بڑی غرض یہ ہے کہ روحانیت کو قائم کیا جائے ، اخلاق کو درست کیا جائے اور ذاتی منافع پر قومی منافع کو ترجیح دی جائے وہ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى 2 کی تعلیم دیتا ہے۔وہ اس لیے جتھا بنانے کی تعلیم نہیں دیتا کہ ذاتی فوائد حاصل کیے جائیں بلکہ وہ اس لیے جتھا بندی کی تعلیم دیتا ہے تا کہ تمام انسان مل کر نیکی اور تقوای پر قائم رہیں۔اور یہ نعمت اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں مسلمانوں کو احمدیت کے ذریعہ دی ہے۔اور اُس نے پھر ایک خلافت کا سلسلہ قائم کیا ہے جس کے ذریعہ وہ مسلمانوں کا ایک ایسا جتھا بنانا چاہتا ہے جو مل کر کفر کا مقابلہ کریں۔یہ چیز بظاہر بہت حقیر نظر آتی ہے ، بظاہر بہت کمزور نظر آتی ہے اور دشمن یہ سمجھتا ہے کہ ہم جب چاہیں احمدیت کو کچل سکتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے پردہ پر جو ساٹھ کروڑ کے قریب مسلمان ہیں اُن کو وہ نعمت حاصل نہیں جو ہماری چھوٹی سی جماعت کو حاصل ہے اور وہ ان تمام فوائد سے محروم ہیں جو اس چھوٹی سی جماعت کو خلافت کی وجہ سے حاصل ہورہے ہیں۔مثلاً تبلیغ کو ہی لے لو۔یہی چیز ہے جسے ہم مخالف کے سامنے پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ! ہم ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کر رہے ہیں مگر تم نے کبھی غور کیا کہ یہ تبلیغ کس طرح ہو رہی ہے؟ پی تبلیغ محض خلافت کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ایک مرکز ہے جس کے ماتحت وہ تمام لوگ جن کے دلوں میں اسلام کا درد ہے اکٹھے ہو گئے ہیں اور اجتماعی طور پر اسلام کے غلبہ اور اس کے احیاء کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔وہ بظاہر چند افراد نظر آتے ہیں مگر اجتماعی طور پر ان میں ایسی قوت پیدا ہوگئی ہے کہ وہ بڑے بڑے اہم کام سرانجام دے سکتے ہیں۔جس طرح آسمان سے پانی قطروں کی صورت میں گرتا ہے پھر وہی قطرے دھاریں بن جاتے ہیں اور وہی دھار میں ایک بہنے والے دریا کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اسی طرح ہمیں زیادہ سے زیادہ طاقت اور شوکت حاصل ہوتی چلی جاتی ہے ورنہ ہمارے احمدی جہاں تک ہمیں معلوم ہے پاکستان اور ہندوستان میں اڑھائی تین لاکھ سے زیادہ نہیں۔اور مسلمان ساری دنیا میں