خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 153

$1951 153 خطبات محمود ا کونسی مشکل بات ہے۔لیکن یہ لوگ یہ تو کوشش کرتے ہیں کہ یو نیورسٹی انہیں پرچے دیکھنے کے لیے بھیج دے اور انہیں کچھ پیسے مل جائیں۔لیکن اس طرف توجہ نہیں کرتے کہ وہ علمی اور اخلاقی اور تربیتی کتابیں لکھیں حالانکہ ہم نے بھی اُن کے معاوضہ میں ایک رقم مقرر کی ہوئی ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ ہمارے اساتذہ اور علماء کی ذہنیت گری ہوئی ہے۔تحریک جدید میں بھی یہی ہوا ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہماری اگلی نسل پہلوں سے بڑھ کر چندہ دیتی لیکن ان کا چندہ دفتر اول کے چندہ سے آدھا بھی نہیں۔اس کے معنے یہ ہیں کہ ان میں خدمت دین کی رغبت ہی نہیں رہی۔مجھے یاد ہے جن دنوں میں نے شروع میں تحریک کی تو اُس وقت جماعت کے لڑکے کالجوں میں بہت تھوڑے تھے لیکن پھر بھی احمد یہ ہوٹل کے طلباء کے وعدے ایک ہزار سے زیادہ کے تھے۔اب کالج میں کئی سو طلباء ہیں لیکن اُن کے وعدے ایک ہزار روپے کے بھی نہیں۔اسی طرح سکول کے وعدے بھی بہت زیادہ ہوا کرتے تھے۔یا درکھو! تمام کام تربیت سے ہوتے ہیں۔جب تک ہر مرد اور عورت یہ نہ سمجھ لے کہ جس دن بچہ پیدا ہواُسی دن سے ہم نے اس کی تربیت کرنی ہے اُس وقت تک ہماری آئندہ نسلیں ترقی نہیں کر سکتیں۔اس حکمت کو مد نظر رکھتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتو ہی تم اُس کے کان میں اذان کہو۔4 گویا وہ وقت بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے۔اگر تم سمجھتے ہو کہ بچے کے کان میں دوسرے دن بھی اچھی بات پڑنی چاہیے، تیسرے دن بھی اچھی بات پڑنی چاہیے اور تم اس کے لیے مسلسل کوشش کرتے ہو تو تم کامیاب ہو گئے۔لیکن اگر تم ایسا نہیں کرتے تو تم اپنی آئندہ نسل کو تباہ کرتے ہو۔اور در حقیقت آئندہ نسل کی تربیت اس حکمت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے کمزور ہو رہی ہے ، اُن کی میں قومی کام کرنے کی رغبت کم ہے، وہ اپنی آمد کے مطابق چندہ نہیں دیتے اور اشاعتِ اسلام کے لیے زندگیاں وقف کرنے کی طرف انہیں توجہ نہیں حالانکہ ایک ایک مومن دنیا میں بہت بڑا تغیر پیدا کر سکتا ہے۔حضرت معین الدین صاحب چشتی ”ہندوستان میں آئے اور ان کی وجہ سے تمام ہندوستان میں اسلام پھیل گیا۔اگر دوسرے مسلمان بھی خواجہ معین الدین صاحب چشتی والا جوش رکھتے تو شاید تاریخ میں یہ لکھا ہوا ہوتا کہ ہندوستان میں ایک قدیم مذہب ہوا کرتا تھا جسے تھے۔لیکن میں بجھتا ہوں اگر اب بھی ایسا ہو جائے اور ہماری آئندہ نسلوں میں کی ہندو