خطبات محمود (جلد 32) — Page 4
خطبات محمود 4 $1951 ہر روز بدلتا رہتا ہوں لیکن درمیان میں رہنے والا انسان اپنی جگہ پر کھڑا رہتا ہے۔پس آنے والے سال میں تم کوشش کرو کہ اپنی پہلی کینچلیوں کو اتار کر پھینک دو، تم کوشش کرو کہ اشرف الخلوقات ہوتے ہوئے اتنا تو کرو جتنا ایک سانپ کرتا ہے۔سانپ ہر چھ ماہ کے بعد اپنی کینچلی تبدیل کر دیتا ہے گو رہتا وہ سانپ ہی ہے لیکن تم اگر بدل جاؤ تو فرشتے بن جاتے ہو اور فرشتے سے مقرب فرشتے بن جاتے ہو۔زمانہ اپنے اندر تبدیلی چاہتا ہے اور وہ تم پر منحصر ہے۔انبیاء کی جماعتیں ہمیشہ دنیا کا محور ہوا کرتی ہیں اور دنیا محور پر گھومتی ہے۔اگر محور حرکت نہیں کرے گا تو دنیا بھی حرکت نہیں کرے گی۔دیکھو! ایک محور جتنی جلدی گھوم جاتا ہے اُس کا دائرہ اُتنی جلدی نہیں گھومتا۔محور چونکہ ایک چھوٹے مقام پر ہوتا ہے اس لیے وہ بہت جلدی اپنے دورے کو ختم کر لیتا ہے۔پس جتنی جتنی حیثیت کسی چیز کو مرکزی مقام میں حاصل ہوتی ہے اتنی اتنی جلدی وہ اپنے دورہ کو ختم کر لیتی ہے اور جتنی جتنی کوئی چیز اپنے مرکزی مقام سے دور چلتی ہے اتنی اتنی اس کے اندر آہستگی پیدا ہو جاتی ہے۔یا جب ہم ظاہری قانون کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں محور ساکن ہوتا ہے اور باقی دنیا چکر لگا رہی ہے۔اس کے معنی یہ نہیں کہ محور فی الواقع ساکن ہوتا ہے۔وہ چونکہ اپنی ایک ہی حالت پر قائم رہتا ہے اس لیے بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ساکن ہے لیکن وہ ساکن ہوتا نہیں وہ برابر چکر کاٹ رہا ہوتا ہے۔اسی طرح مومن کی تبدیلی بھی ہمیشہ ایک ہی رنگ کی ہوتی ہے اور ایک ہی قسم کی چیز بدلی ہوئی نظر نہیں آتی۔تم ایک سفید کپڑے کو سرخ رنگ میں ڈال دو تو وہ سرخ ہو جائے گا۔اسے دوبارہ سرخ رنگ میں ڈالو تو وہ سرخ کا سرخ رہے گا۔ہاں ! اس کی سرخی ذرا تیز ہو جائے گی۔اس کپڑے کو اگر تیسری دفعہ سرخ رنگ میں ڈالو تب بھی وہ سرخ ہی رہے گا۔ہاں ! تمہارا ایسا کرنا اس کی سرخی میں کچھ زیادتی پیدا کر دے گا۔لیکن اسی کپڑے کو اگر تم سبز رنگ میں ڈالو تو اُس کا رنگ بدل جائے گا۔رنگ بدلتے ہیں تو وہ ممتاز نظر آتے ہیں لیکن جو ایک ہی رنگ میں سموئے جاتے ہیں اُن کا امتیاز کرنا مشکل ہوتا ہے۔مومن بھی ایک ہی رنگ میں سمویا جاتا ہے۔وہ صرف صِبْغَةُ الله کو قبول کرتا ہے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی حالانکہ وہ اپنے اندر پہلے سے زیادہ تبدیلی پیدا کر رہا ہوتا ہے مگر یکرنگ ہونے کی وجہ سے وہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔پس آپ لوگ اس نئے سال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں، اپنے کاموں میں جوش پیدا