خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 117

$1951 117 خطبات محمود ایک غیر مکمل سا نقشہ کھینچ لیتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ چند دن پہاڑ پر رہنے کے بعد لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ میدانوں میں بھی موسم اچھا ہو گیا ہوگا۔اس طرح انسان سمجھ سکتا ہے کہ جس طرح پاس پاس کی جگہوں میں فرق ہو جاتا ہے اسی طرح پاس پاس کے انسانوں میں بھی فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ان کے حالات ایک سے معلوم ہوتے ہیں لیکن دراصل وہ مختلف ہوتے ہیں۔جس طرح پاس پاس کی زمینوں میں فرق ہوتا ہے کہ ایک جگہ گرمی پڑتی ہے اور ایک جگہ سردی، ایک جگہ اونچی ہوتی ہے اور ایک جگہ نشیب والی ہوتی ہے۔اسی طرح پاس پاس کے رہنے والے انسانوں کا حال ہے۔ایک کا کچھ ہوتا اور دوسرے کا کچھ۔انبیاء جب دنیا میں آتے ہیں تو اُن کے ہمسایہ میں بعض اوقات ایک اشتر ترین کا فر ہوتا ہے جس پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے لیکن ایک ہی جگہ اور ایک ہی وقت میں وہ دونوں اس طرح نشو ونمان پاتے ہیں کہ ایک کا دوسرے پر قیاس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔مکہ والوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ مسلمان اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان رہ کس طرح سکتے ہیں۔جس طرح آجکل احراری کہتے ہیں کہ احمدی پاکستان میں رہ کس طرح سکتے ہیں؟ ان کی سمجھ میں یہ بات آ ہی نہیں سکتی۔اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سمجھ میں یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ مکہ والے انہیں نکال کیسے دیں گے۔چنانچہ ورقہ بن نوفل نے کہا کہ آپ کو جو الہام ہوا ہے وہ اُسی قسم کا ہے جیسے حضرت موسی علیہ السلام کو ہوا تھا۔کاش! میں اُس وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو مکہ سے نکال دے گی تو میں آپ کی مدد کرتا۔اس پر آپ نے حیرت سے فرمایا اَوَ مُخْرِجِيَّ هُمُ 1- کیا وہ مجھے مکہ سے نکال دیں گے ؟ آخر میرے اندروہ کونسی چیز پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے میری قوم مجھے مکہ سے نکال دے گی ؟ گویا ایک ہی شہر میں پاس پاس رہنے کے باوجود ایک فریق یہ خیال کرتا ہے کہ میرے شہر سے نکالنے کا سوال ہی کیسے پیدا ہوسکتا ہے؟ لیکن ویسے ہی کان، ناک ، آنکھ رکھنے والا آدمی کہتا ہے کہ یہ ہمارے درمیان رہ کیسے سکتا ہے؟ اس کو شہر سے باہر نکال کر پھینکنا چاہیے۔یہ وہی فرق ہے جو پہاڑ اور میدان کا ہوتا ہے۔ایک جگہ گرمی ہوتی ہے تو دوسری جگہ سردی، ایک جگہ انسان گرمی سے بیتاب ہو رہے ہوتے ہیں تو دوسری جگہ انسان راحت محسوس کرتے ہیں۔پس انسان کو ظاہری چیزوں پر نہیں جانا چاہیے۔اسے قلب کی حالت پر غور کرنا چاہیے۔