خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 115

$1951 115 خطبات محمود مونچھ کے برابر ہو وہ ظلم ہے۔اور ظلم ایک گند ہے۔کسی کی بدگوئی کرنا، بدظنی کرنا، فتنہ پردازی بلکہ اپنے حق پر اتنا اصرار کرنا جس سے قوم میں فتنہ پیدا ہو یہ بھی گناہ ہے۔تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں نے میرے کی و پیسے دینے تھے اس لیے میں نے ایسا کیا ہے۔خدا تعالیٰ کہے گا تم نے دو پیسے کی خاطر قوم کا بیڑا غرق کر دیا جاؤ جہنم میں تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میرا حق تھا ایسا کرتا۔خدا کہے گا تم نے اپنے حق کو اس فتنہ کے مقابلہ میں رکھ کر دیکھ لیا ہوتا تو تم اس پر اتنا اصرار نہ کرتے۔گویا ظلم تو الگ رہا اپنے حق پر اتنا اصرار کرنا جو فتنہ کا موجب ہو وہ بھی برائی ہے۔جب تک تم اس ذہنیت کو بدلتے نہیں تنظیم قائم نہیں ہو سکتی“۔(الفضل 14 اگست 1962 ء ) 1: چرائتا: ایک قسم کی کڑوی لکڑیاں جو مصفی خون ہوتی ہیں۔( فیروز اللغات اردو جامع فیروز سنز لاہور)