خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 62

$1950 62 خطبات محمود اس لئے لنگر کا بند کرنا اُس نے گوارا نہ کیا لیکن اُدھر قرض کے اُتارنے کی بھی فکر تھی۔اُس نے اپنے کی دوستوں کو بلایا۔اپنا نقص تو کوئی بتاتا نہیں اُن سب نے کہا کہ سٹور روم کا کوئی دروازہ نہیں ساری رات ہے گیدڑ اور گتے وغیرہ سامان خوراک خراب کرتے رہتے ہیں اس لئے بہت سا سامان ضائع ہو جاتا ہے۔اگر سٹور روم کو دروازہ لگا دیا جائے تو بہت حد تک بچت ہوسکتی ہے۔اُس نے حکم چلایا کہ دروازہ لگا دیا جائے۔چنانچہ وہ لگا دیا گیا۔یہ کہانیوں میں سے ایک کہانی ہے اور کہانیوں میں گتے اور گیدڑ بھی بولا کرتے ہیں۔رات کو گیدڑوں اور کتوں نے سٹور روم کو دروازہ لگا ہوا دیکھا تو انہوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔اچانک کوئی بڑھا خرانٹ گیدڑ یا گتا آیا اور اُس نے اُن سے دریافت کیا کہ تم شور کیوں مچاتے ہو؟ اُس کی جنس کے افراد نے کہا سٹور روم کو دروازہ لگ گیا ہے ہم کھائیں گے کہاں سے؟ ہمارے تو علاقہ کے سارے گتے اور گیدڑ یہیں سے کھاتے تھے۔اُس نے کہا تم یونہی رونے اور شور مچانے میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہو جس شخص نے ہیں سال تک اپنا گھر لٹتے دیکھا اور اس کا کوئی تی انتظام نہ کیا اُس کے سٹور روم کا بھلا دروازہ کس نے بند کرنا ہے اس لئے گھبراؤ نہیں۔اس کہانی میں یہی بتایا گیا ہے کہ اگر چاہیں اور چاہیں میں بہت فرق ہے۔کتوں اور گیدڑوں نے شور مچایا کہ اگر اُس نے چاہا اور دروازہ بند کر دیا تو ہم کھائیں گے کہاں سے۔اور خرانٹ گتے یا گیدڑ نے کہا اُس نے چاہنا تی ہی نہیں پھر شور کیسا۔پس اگر ہماری جماعت کے افراد نے چاہنا ہی نہیں تو کچھ نہیں ہو سکتا۔لیکن اگر وہ چاہیں تو بڑے سے بڑا مشکل کام بھی دنوں میں کر سکتے ہیں۔ہماری بچپن کی کہانیوں میں الہ دین کے چراغ کی کہانی بہت مشہور تھی۔الہ دین ایک غریب آدمی تھا اُسے ایک چراغ مل گیا۔وہ جب اُس چراغ کو رگڑتا تھا تو ایک جن ظاہر ہوتا تھا جس کو وہ جو کچھ کہتا ہے وہ فورا تیار کر کے سامنے رکھ دیتا۔مثلاً اگر وہ اُسے کوئی محل بنانے کو کہہ دیتا تو وہ آنا انا محل تیار کر دیتا۔بچپن میں تو ہم یہی سمجھتے تھے کہ الہ دین کا چراغ ایک سچا واقعہ ہے لیکن جب بڑے ہوئے تو ہم نے سمجھا کہ یہ محض واہمہ اور خیال ہے۔لیکن اس کے بعد جب ہم جوانی سے بڑھاپے کی طرف آئے تو معلوم ہوا کہ یہ بات ٹھیک ہے، الہ دین کا چراغ ضرور ہوتا ہے۔لیکن وہ تیل کا چراغ نہیں ہوتا بلکہ عزم اور ارادہ کا چراغ ہوتا ہے۔جس کو خدا تعالیٰ وہ چراغ بخش دے وہ اُس کو حرکت دیتا ہے اور بوجہ اس کے کہ عزم اور ارادہ خدا تعالیٰ کی صفات میں سے ہیں جس طرح خدا تعالیٰ سن 1 کہتا ہے اور کام