خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 33

$1950 33 خطبات محمود اور ہم ایک بچے مامور کی کچی جماعت ہیں تو یقیناً ہمارے لئے ان تغیرات سے کوئی بڑا فائدہ ہو جائے گا۔لیکن اگر ہم ایک بچے مامور کو نہیں مانتے یا ہم اپنی بدقسمتی سے ایک بچے مامور کی کچی جماعت نہیں ہے بلکہ اپنی کوتاہیوں اور اپنی غلطیوں کی وجہ سے اُس کی کچی جماعت کہلانے کا حق ہم سے چھین لیا گیا ہے تو ی آنے والے خطرات سے ہمیں بھی دو چار ہونا پڑے گا۔اور ہمیں بھی کچھ مدت تک گوشتہ گمنامی اختیار کرنا می پڑے گا۔پس یہ ایام مسلمانوں کے ساتھ عام طور پر اور ہماری جماعت کے ساتھ خاص تعلق رکھتے ہیں۔اور سے مسلمانوں کو یہ دن دعاؤں التجاؤں اور انسابت اِلَی اللہ میں صرف کرنے چاہئیں اور خدا تعالیٰ۔بار بار مد دطلب کرنی چاہیے کہ اے خدا! جو کو تا ہیاں ہم سے ہوئی ہیں ہمیں اُن سے انکار نہیں مگر تو فضل کرنے والا ہے ہم پر فضل کر۔اپنی شان و شوکت کے زمانہ میں جس طرح ہم نے دین اسلام کو بھلا دیا ہمیں اس کا اقرار ہے۔خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ کچھ دیا جوکسی قوم کو نہیں دیا۔لیکن وہ پوری طرح اس احسان کا شکر یہ ادا نہیں کر سکے اور بجائے محسن کے انہوں نے احسان کو دیکھنا شروع کر دیا۔انہوں نے م محسن کی طرف نہ دیکھا مگر وہ اُس کے احسان سے فائدہ اٹھانے میں لگ گئے۔پس جو کچھ خدا تعالیٰ نے کیا ٹھیک کیا۔اور صرف ٹھیک ہی نہیں کیا بلکہ اس میں بھی اُس نے رحم سے کام لیا ہے۔لیکن پھر بھی خدا تعالیٰ کے حضور ہمیں عرض کرنی چاہیے کہ اے خدا! دشمن کے غلبہ کے دن لمبے ہو چکے، مصیبتوں اور تکالیف کا سایہ بہت دور پھیل گیا، ایک طاقتور اور حکمران قوم جو ساری دنیا پر غالب تھی اب ایک نہایت ہی حقیر اور کمزور جنس ہو کر رہ گئی ہے، صدی کے بعد صدی گزرگئی نسل کے بعد نسل ختم ہو گئی مگر اس کی تکالیف کا زمانہ ختم ہونے میں نہیں آیا۔اب تیرے رحم اور تیری شفقت، اور تیرے غفران اور تیرے فضل دیکھتے ہوئے ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ تو پرانے گلوں کو دور کر دے، پرانی شکایتوں کو معاف کر دے اور چار سو سال سے متواتر ذلیل ہونے والی مسلمان قوم کو خاک سے اٹھا لے اور آنے والی مشکلات اور مصائب سے نہ صرف اُسے بچالے بلکہ اپنے رحم و کرم سے اُن کے دماغوں میں ہدایت کے خیالات پیدا کرتے ہوئے اُن کو پھر نئی زندگی ، عزت ، غلبہ، نیک نامی اور کامیابی بخش دے۔یہ دعائیں کرو اور متواتر کرو کیونکہ ہمارے پاس سوائے دعا کے اور کوئی چارہ نہیں۔انسانی تدبیروں سے شاید ہم سینکڑوں سال میں بھی نہیں جیت سکتے۔مگر الہی تدبیروں سے شاید ہم رات کو