خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 32

پھر دیکھئے اللہ اتنا لے اس بات کو اور کھولتا ہے۔فرماتا ہے فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ پس اپنے رب کی عبادت کر اور قربانی دے۔یہ عبادت اور قربانی بیٹے ہی کی پیدائش کی خوشی میں بہت کی گئی ہے۔اور نبی ایسے موقعہ پر بھی خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے اور قربانی دیتے ہیں۔قرآن کریم میں حضرت زکریا کے متعلق آیا ہے کہ انہوں نے خدا تعالے سے دُعا کی ہے کہ لیکن بلئے وہ ہوں، مجھے اولاد عطا کی جائے اور یہ دعانہ وحانی اولاد کے متعلق ہی تھی نہ کر جسمانی اولاد کے لئے۔چنانچہ آپ کہتے ہیں کہ مجھے ایسا بیٹا عطا کیا جائے جو میرا اور آل یعقوب کا دارت ہووے چونکہ انہیں خطرہ تھا کہ میرے بعد روحانی سلسلہ مٹ جائے گا ، اس لئے روحانی بیٹے کی دعا کی ہے۔اس پر خد اتعالے نے آپ کو بنیا دیا۔پھر آپ پوچھتے ہیں کہ الہی میں اس نعمت کے شکریہ میں کیا کروں۔اس کے متعلق خدا تعالے نے فرمایا کہ تین دن روزے رکھو جیسے انہوں نے خود روزے رکھے اور دوسروں کو عبادت کرنے کی تلقین کی۔چنانچہ ان کے متعلق قرآن کریم میں آیا ہے۔ان ستحق بكرة وعشيات تو اولاد کی خوشخبری پر نبی خدا تھا کئے کی عبادت کرتے اور نماز پڑھتے ہیں۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ : سكوتر کی خوشخبری سنانے کے بعد فرمایا فصل ہر بات کہ اس کے شکریہ میں اپنے رب کی عبادت کرد و انحر قربانی دو۔یہ بھی صاف بات ہے کہ بیٹے کی پیدائش پر عقیقہ کیا جاتا ہے۔اسی لئے فرمایا کہ ہم نے تجھے کو ردی ہے۔پس اس نعمت کے ملنے پر خوب عبادت کرو اور قربانیاں دو۔ایک زمانہ آئے گا جبکہ لوگ تمہیں بے اولاد بنانے کی کوشش کریں گے اور ساری دنیا تمہاری روحانی اولاد کے سلسلہ کو منقطع کرنا چاہے گی اور اب بھی تم پر بے اولاد ہونے کا اعتراض کیا جاتا ہے مروہ تمھیں ایک ایسا بیا دیا جائے گا کہ جو تیرے دشمنوں کو ان کی کوششوں میں ناکام و نامراد رکھے گا۔تیرا دشمن تیرے بعد تیرہ سو سال زور مارتا ر ہے گا اور ایک حد تک اپنی کوشش میں اسے کامیابی بھی نظر آئے گی۔مگر اس وقت تمہیں ایسا بیٹا دیا جائے گا کہ جس کی وجیسے تیرے دشمن ابتر ہو جائیں گے اور شیطان اپنے منصوبوں میں ناکام ہو جائے گا۔چنانچہ یہ ایک پیش گوئی ہے کہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں شیطان اپنی پوری قوت اور طاقت سے اپنا آخری حملہ کرے گا مگر ناکام رہے گا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے بھی فرمایا ہے کہ ایک وقت آئے گا جبکہ ساری دنیا کا مذہب اسلام ہو جائے گا : ان سب باتوں سے پتہ لگتا ہے کہ اس سورۃ میں حضرت مسیح موعود کی بعثت کی پیش گوئی ہی کی گئی ہے نیز اسے عید اضحی سے مشابہت دی گئی ہے کیونکہ اس میں نماز پڑھنے اور قربانی دینے کا حکم ہے۔اور یہی وہ عید ہے جس کے موقعہ پر نماز پڑھی اور قربانی دی جاتی ہے۔پس