خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iv of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page iv

یہ صاف بات ہے کہ جتنا بڑا کوئی انسان بنتا ہے اتنی ہی زیان است است مرتبہ تک پہنچنے کے لئے قربانی کرنی پڑتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے قربانی کی۔خدا تعالیٰ نے اس قربانی کے بدلے ان کی اولاد کو بے شیر ترقی دکتے۔اگر تم بھی چاہتے ہو کہ تمہاری اولاد ترقی کرے تو تم بھی اپنی اولاد کو قربان گرو - اس سے ایسی محبت نہ کرو جو تم کو ان کی اصلاح اور علوم کے سکھانے سے باز رکھے اور تم اُن کی نگرانی چھوڑ دو۔اگر تمہیں یہ خواہش ہے کہ تمہاری نسن ڑھے اور ترقی کرے تو بجائے ان کے آرام اور آسائش کی فکر کے ان کی رومانی تربیت کرنی چاہیے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولا د ترقی کرے اور آسمان کے ستاروں کی طرح اگنی نہ جاتے تو اس کا ایک ان ذریعہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کو بچنین میں آران آرام طلب، کامل اور سست نہ بنائیں بلکہ ان کے اعمال اور اخلاق کی پوری نگرانی کری(خطبہ عبید الا صفحه فرموده ۱۲ جولائی ) میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ اور اس عید سے سبق سیکھے۔اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ کو ہمیشہ سکھ حاصل ہوا اور آپ کے مرنے کے بعد بھی آپ کی عیدیں ختم نہ ہوں تو آپ اپنے بچوں کو قربان کریں اور اُن کو دنیا کی ہر قسم کی مشقت برداشت کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ وہ دین اور اسلام کے جھنڈے کو بلند کرنے کے لئے کسی تکلیف اور مشقت سے خوف نہ کھائیں گا ( خطبہ عید الاضح فرمودن ۱۲ جولائی ) " نہ نہ نہ نہ نہ نہ نہ نہ نہ