خطبات محمود (جلد 2) — Page 242
طرف تو میدان جنگ سے بھاگتا چلا جائے سانس چڑھا ہوا ہو ت یہ لڑکھڑا رہنے ہوا، چوو درد ہو۔آنکھیں باہر نکل رہی ہوں۔ہونٹوں پر ڈر کے مارے پیڑیاں حکم رہی ہوں۔وہ بھا کرنا بھی جائے اور مڑ مڑ کر تعاقب کرنے والوں کو یہ بھی کہنا جائے کہ تم جانتے ہو کہ نہیں ملال بہادر کا بیٹا ہوں۔کیا تم سمجھتے ہو اس کی اس بات سے ان کے دلوں پر رغب طاری ہوگا یا نزرت اان کے دلوں میں پیدا ہوگی۔یا ان کے دلوں میں اور بھی غصہ پیدا ہو گا۔اور وہ کہ ہیں گے کہ ٹھر تو جا۔تو ہمارا ہی دشمن نہیں بلکہ اپنے باپ دادا کا بھی دشمن ہے جس نے اپنی ہی عزت برباد نہیں کی بلکہ اپنے باپ دادا کی بھی کی ہے۔پس قربانی اور ایثار کا اعلیٰ نمونہ دکھاؤ یخ اور اپنے لئے عید الفطر حاصل کرو تاکہ اس کے بعد خدا تعالے کا وہ کلام پورا ہو کہ جو مومن ہو تے وہ اپنے باپ دادا میں سے حثیت میں بلند مرتبہ حاصل کرنے والوں کے ساتھ رکھے جائیں گے اور تمہارا خدا تمہیں کے کہ پہلے تم نے خدا ستانے کی راہ میں قربانی کر کے عید الفطر حاصل کی تھی اور مومن بنے تھے ، اب آؤ عید الاضحیہ کا مزہ ہم تم کو چکھائیں۔اور تمہیں حضرت ابراہیم او حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قرب میں جگہ دیں۔اور یقینا ذاتی خوشی کے بعد یہ دوسری خوشی اتنی عظیم الشان ہوئی کہ اس کا نستور کر کے بھی دل خوشی سے گزری اچھنے لگتا ہے۔کیونکہ یہ وہ خوشی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نصیب ہوئی تھی۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نصیب ہوئی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نصیب ہوئی تھی۔جب پہلے ہم اپنے لئے ایک عیا۔پیدا کر لیتے ہیں تو خدا تعالے ہمارے لئے وہ دوسری عید پیدا کرتا ہے جو ابراہیمی عید ہے۔محمدی عہد ہے اور احمدی عید ہے۔پس پہلے عید الفطر پیدا کرو۔اور اس سے پہلے قومی کامیابی کے دان کا انتظار کرنا نہیں ایسا ہی احمق بناتا ہے جیسے وہ احمق ہے جو عید الاضحیہ پہلے کرنا چاہیے اور عید الفطر کا بعد میں انتظار کرے۔تم جانتے ہو کہ ایسے شخص کے لئے نہ عید الاضحیہ آئے گی اور نہ عید الفطر وہ عید الاضحیہ کو پہلے حاصل نہیں کرے گا بلکہ دونوں عیدوں سے محروم رہے گا مگر جو پہلے عید الفطر کرے گا۔اسے عید الاضحیہ بھی نصیب ہوگی اور وہ ایک کی جگہ دو عیدیں دیکھے گا۔پس آؤ اور اپنے دلوں میں پختہ ارادہ کر لو۔کہ پہلے اپنی ذاتی قربانیوں کے ساتھ تم اپنے لئے عید پیدا کروگے تاکہ اس کے بعد تمہارا خدا آسمان سے تمہارے لئے ابر اسیمی عید اتارے محمدی عید اُتارے اور احمدی عید انارے - اللهم آمین۔" والفضل ۱۷ جولائی ۱۹۵ء صوتا