خطبات محمود (جلد 2) — Page 134
ان کے دل ہماری طرف سے خطرات سے اس قدر پر ہیں کہ با وجود متواتر ناکامیوں کے باز نہیں آتے۔ذلت کے بعد ذلت، رسوائی کے بعد رسوائی، شکست کے بعد سست اور ہزعیت کے بعد بنزیت اُٹھاتے ہیں حتی کہ خود ان کے ہم خیال ان کے طریق کار کی ترقیت کرتے اور انہیں سمجھاتے ہیں کہ اس قسم کی شرارت اور دنایت قومی مفاد کے منافی اور اسلامی تعلیم کے مخالف ہے۔مگر بایں تمہ وہ باز نہیں آتے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر میدان میں بتا دیا ہے کہ جو لوگ اس کی مدد اور نصرت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، انہیں تباہ کرنا کسی انسان کا کام نہیں اور احمدیت اسی طرح قائم کی گئی ہے بلکہ ہر نبوت اور ماموریت اس طرح قائم کی جاتی ہے جس طرح اسماعیلی درخت کو خدا تعالے نے مکہ کی سرزمین میں لگایا تھا۔اور سچی بات تو یہ ہے کہ کوئی صداقت اور راستبازی ایسے۔حالات میں کبھی دنیا میں نہیں آتی کہ اس کے نشو و نما پانے کے لئے میدان خالی ہو۔صداقت ہمیشہ اسی است آتی ہے جب اس کے پینے اور نشو و نما پانے کے لئے میدان خالی نہیں ہوتا۔صداقت کا بیج خدا تعا نے اپنے ہاتھ سے ویران مقام پہ ڈالتا ہے تا وہ دوسرے بڑے دور ہوں کے سایہ سے محفوظ رہ کر ترقی کر سکے۔اور اس وجہ سے انبیاء کی جماعتیں الگ قائم کی جاتی ہیں۔نادان خیال کرتے ہیں کہ فلاں مدعی نبوت نے آکر لوگوں میں شقاق اور تفرقہ ڈال دیا۔باپ کو بیٹے سے، بھائی کو بھائی سے جدا کر دیا۔حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایک ہوشیار با نی نئے پودے کو ہمیشہ الگ لگاتا ہے۔دنیا میں کوئی ایسا ہیو قوت مالی نہیں ہوگا جو کسی نئے اور قیمتی پودے کو کسی بڑے درخت کی جڑ کے پاس لگا دے کیونکہ وہ جانتا ہے اس طرح پور اصنائع ہو جائے گا۔وہ ہمیشہ اسے ایسی جگہ لگائے گا۔جہاں طاقت پکڑ سکے اور جہاں اسے پوری غذا مل سکے۔اور اگر نئی جماعتوں کا الگ قائم کرنا بری چیز ہے تو اس کی بنیاد نمایاں طور پر حضر ابراہیم علیہ السلام نے رکھی جہنوں نے اپنے بیٹے کو تمام رشتہ داروں عزیز و اقارب اور ملک د وطن سے علیحدہ کر کے وادی غیر ذی درع میں چھوڑ دیا۔کیا اس کے یہ معنے لئے جائیں گے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام غرب و شام اور عبرانیوں و شامیوں میں جدائی ڈال کر شقاق پیدا کرنا چاہتے تھے بانہیں ہر گز نہیں، وہ جانتے تھے کہ اس ہونہار پودے کے نشوونما اور ارتقاد کے لئے وادی غیر ذی زرع ہی کی ضرورت ہے۔خدا تعالی کی مشیت یہی تھی کہ حضرت اسحق علیہ السلام کو پہلے ترقی دی جائے اور اسما عیلی پودا ایک دور مقام پر چھوٹی حالت میں رکھا جائے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ چھوٹے پورے بڑے درخت کے زیر سایہ نہیں بڑھ سکتے اور ہمیشہ ضائع ہو جایا کرتے ہیں۔اور چونکہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد کو بعد میں خدا تعالے نے ترقی دینی تھی ، اس لئے اس کا پورا ایک سنسان جگہ میں لگایا۔حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد نے ترقی کی مگر اسے کبھی یہ خیال بھی نہ آیا کہ مکہ فتح کرے کیونکہ وہ لوگ جانتے تھے اسے فتح کرنا کسی فائدہ کا موجب