خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 109

1۔9 ہر سال یہ عید کا دن آتا ہے۔اگر ہم اس بات کو مد نظر رکھیں کہ یہ دن ہمیں اپنی قربانیوں کا اپنی عورتوں کی قربانیوں کا اور اپنے بچوں کی قربانیوں کا سبق سکھاتا ہے تو یہ دن ہمارے لئے ایسا ہی بہ گا جیسے اور دن۔پس ہمیں اس سبق کو جو ان قربانیوں سے ملنا ہے اور جس کی یاد کے لئے یہ دن ہر سال ہمہ پہ آتا ہے ، ہر وقت یا درکھنا چاہیئے۔بعض لوگ خود تو قربانی کرتے ہیں مگر اپنے بیوی بچوں کی قربانیاں نہیں کر سکتے حضرت صاحب کے ایک مرید تھے جو بڑی قربانیاں کرتے رہتے تھے۔لیکن ایک دفعہ ان کی بیوی سے کوئی حرکت سر زد ہوئی، حضرت صاحب اس پر ناراض ہوئے تو اس شخص نے کہا کہ میں تو قادیان چھوڑ دوں گا۔اب اس سے بالکل ہی قادیان چھٹ گئی ہے یہ اسی طرح ایک لڑکے نے ایک سمان کو تکلیف دی جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے تھپڑ مارا۔اس سے اس کا باپ بہت بگڑا مگر جلد ہی اس نے معافی مانگ نی شبه تو بعض آدمی اپنی تو قربانی کر لیتے ہیں مگر اپنی بیوی اور بچوں کی نہیں کرتے ، اس لئے وہ ترقی کرنے سے بھی رہ جاتے ہیں ، اسی سے قوموں کی ترقی کا اندازہ لگانا چاہیئے جو قومیں یہ تینوں قسم کی قربانیاں کرتی ہیں، رہی ترقی کرتی ہیں۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اگر ترقی کے خواہشمند ہیں ذان قربانیوں کو کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کریں۔جب تک یہ قربانیاں نہیں ہو ئیں کوئی نوم آگے نہیں بڑھ سکتی۔آگے بڑھنا تو کجا اپنے اصل مقام پر بھی قائم نہیں رہ سکتی بلکہ پیچھے گرنے لگ جاتی ہے۔بعض لوگ تھوڑی سی قربانی کر کے ملی نصر اللہ کہ اٹھتے ہیں : میں کہتا ہوں نصر اللہ انسان کے اپنے اعمال پر آتی ہے۔انسان اعمال اس قسم کے بنائے کہ نصر اللہ لانے والے ہوں پھرا گو نصر اللہ نہ آئے تو کہہ سکتا ہے مستی نصر اللہ۔لیکن اگر وہ اعمال تو اس رنگ میں نہ کرے کہ نصر اللہ آئے لیکن مشی نصر اللہ کی پکار لگاتا رہے تو یہ اس کی نادانی ہوگی۔خدا اس عید کے ذریعہ بھی یہ بتانا چاہتا ہے کہ مرد بچے اور عورتیں جب تک ابرا بستیم اسمعیل اور ہاجرہ کی طرح قربانیاں نہ کریں مستی نصر اللہ نہیں کر سکتے ہیں اگر وہ اپنی قربانیوں کو ابراہیم اسمعیل اور ہاجرہ کی قربانیوں جیسا بنا لیں اور پھر نصر اللہ میں دیر ہو تو کہ سکتے ہیں مشی نصر الله۔پس اگر تم نصر اللہ حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنی اور اپنی بیوی اور بچوں کی قربانیوں کو ابراہیم اسمعیل اور ہاجرہ کی قربانیوں جیسا بناؤ۔یکی ابھی اور باتیں بھی کہنا چاہتا تھا۔مگر یکیں دیکھتا ہوں کہ خطیہ لمبا ہو گیا ہے اس لئے یکن اس کو اسی جگہ بند کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالے ہم سب میں ایسا اخلاص تقولی اور طہارت پیدا کرے کہ بچے طور پر اپنی اولاد اور اپنے بچوں اور اپنی بیویوں کی قربانیاں کر گئیں