خطبات محمود (جلد 29) — Page 78
$1948 78 خطبات محمود کوئی ایک فٹ گھیرے والا آم ہوتا ہے اور کسی میں صرف ڈنٹھل ہوتے ہیں اور ایک لکڑی کھڑی ہوتی ہے وہ بھی آم ہوتا ہے اور یہ بھی آم ہوتا ہے۔اگر خالی آم کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس سے کوئی حقیقت ذہن میں نہیں آتی۔چیز بے شک سامنے آجائے گی مگر اُس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں گی۔اسی طرح پھلوں کو لے لو۔خربوزہ کہنے سے اُس کی کوئی خاص حقیقت ذہن میں نہیں ہوتی۔کیونکہ ایک طرف اگر ہمیں ایسے خربوزے دکھائی دیتے ہیں جو پیسے بٹی بکتے ہیں تو دوسری طرف ہمیں ایسے خربوزے بھی دکھائی دیتے ہیں جو روپیہ بٹی تک سکتے ہیں۔اگر خالی خربوزہ کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس میں میٹھے ، پھیکے، کھٹے ہیٹھے 1، تلخ اور بدمزہ سب کے سب خربوزے شامل ہوں گے۔اُس وقت اگر کوئی شخص یہ کہے کہ چیز تو ایک ہی ہے مگر ایک خربوزہ پیسے بٹی بک رہا ہے اور لکھنؤ کا خربوزہ ایک روپیہ بھٹی بک رہا ہے۔یہ فرق آخر کیوں ہے؟ تو ہر شخص اُسے کہے گا کہ تو احمق اور بے وقوف ہے۔گجا وہ خربوزہ گجا یہ خربوزہ۔دونوں کی آپس میں نسبت ہی کیا ہے۔اسی طرح آم کو لے لو۔ایک چھوٹے تخمی آم ہوتے ہیں جو اس گرانی کے زمانے میں بھی روپیہ دوروپے سینکٹر ہل جاتے ہیں۔اور ایک فجری آم ہوتے ہیں جو سو سو روپیہ سینکڑہ سکتے ہیں۔پہلے عام طور پر وہ چالیس پچاس روپے سینکڑہ پکا کرتے تھے۔ان دونوں آموں کو دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم اس کا تو روپیہ بھی نہیں دیتے اور اُس کے پچاس بلکہ سو روپے بھی دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہو۔اگر کوئی ایسا اعتراض کرے تو تم سے پاگل کہو گے۔میں ایک دفعہ سیر کر کے واپس آرہا تھا اور نیک محمد صاحب پٹھان میرے ساتھ تھے کہ ہمیں راستے میں ایک شخص ملا جو حصار سے بیل خرید کر لایا تھا۔اُن میں چھوٹے بھی تھے اور بڑے بھی موٹے بھی تھے اور دُبلے بھی ،مضبوط بھی تھے اور کمزور بھی ، اعلیٰ نسل کے بھی تھے اور معمولی نسل کے بھی میں نے نیک محمد صاحب کو بھیجا کہ جاؤ اور اُس سے پوچھو کہ اوسط قیمت بیلوں کی کیا پڑتی ہے؟ نیک محمد صاحب اوسط قیمت تو بھول گئے اور اُسے جا کر کہنے لگے کہ بتاؤ ایک بیل کی کیا قیمت ہے؟ اُس نے کہا کیہڑا بیل؟ ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی اور وہ بار بار یہی کہتے چلے گئے کہ ایک بیل کی قیمت بتاؤ۔دو تین دفعہ جو اُس نے کہا کہ کس بیل کی قیمت؟ تو یہ چڑ گئے اور کہنے لگے میں جو کہتا ہوں کہ مجھے ایک بیل کی قیمت بتا دو۔آخر میں نے انہیں آواز دے کر بلایا اور کہا کہ وہ ٹھیک کہتا ہے۔جب میں نے