خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 79

خطبات محمود 79 سال 1947ء فرماتا ہے۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ 4 کہ میں نے جن وانس کو اپنا بندہ بننے کے لئے پیدا کیا ہے۔اس سے ہمیں انسانی پیدائش کی غرض کا علم ہو گیا کہ انسان اللہ تعالیٰ کا عبد بنے۔اور مخلوق میں سے جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرتا ہے وہ اُس کا بندہ ہے۔اور جو اُس کے احکام کی پیروی نہیں کرتا وہ بندہ نہیں ہے۔بیشک وہ مخلوق خدا تعالیٰ کی کی ہے لیکن وہ عبد نہیں ہے کیونکہ اُس نے اپنی پیدائش کی غرض کو فراموش کر دیا۔اور اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنے والے انسان اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ تمام دنیا اللہ تعالیٰ کی عبودیت کا اقرار کرے۔اور وہ اللہ تعالیٰ کی اس خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمام دنیا راہ راست پر آجائے۔اگر تمہارے دنیاوی کاموں میں ذرا سی خرابی پیدا ہو جائے تو تم پریشان ہو جاتے ہی ہو۔ایک چھوٹی سی دکان جس سے بمشکل تمہارے بیوی بچوں کا گزارہ ہوتا ہے اُس کے کامیابی نہ ہونے پر تم کس قد رگھبراتے ہو۔بزرگوں اور دوستوں کو دعاؤں کے لئے کہتے ہو۔اور دوستوں کو پراپیگنڈا کرنے کے لئے کہتے ہوتا کہ کسی طرح تمہاری وہ چھوٹی سی دُکان کامیاب ہو جائے۔تمہیں اپنی اس چھوٹی سی دکان کے لئے اتنا فکر ہوتا ہے تو کیا اللہ تعالیٰ جس نے بنی نوع انسان کو پیدا کیا اُسے ان کی ہدایت کا فکر نہیں؟ اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو جبراً ایک منٹ میں سب کے اندر ایمان پیدا کر سکتا ہے۔مگر ایسا کرنے سے بنی نوع انسان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔اللہ تعالیٰ نے سورج کو سورج ہونے کے لئے بنایا اور چاند کو چاند ہونے کے لئے بنایا اور پہاڑوں کو پہاڑ ہونے کے لئے بنایا۔اس لئے قیامت کے دن ان کو کسی قسم کا انعام نہیں ملے گا۔چونکہ وہ جبری طور پر ایسے بنا دیئے گئے ہیں اس لئے ان کے کام کا کوئی بدلہ نہیں اور وہ کسی انعام کے مستحق نہیں۔اگر انسان بھی ایسے ہی ہوتے اور وہ بھی جبری طور پر نیک بنا دئیے جاتے تو وہ بھی انعام کے مستحق نہ ہوتے۔پس انسانوں کو جبر سے ہدایت پر لانے سے ان کی پیدائش کی غرض فوت ہو جاتی ہے اور وہ منعم علیہ نہ بن سکتے۔کیونکہ ایسی حالت میں پتھر اور لو ہے میں اور ان میں کوئی فرق نہ ہوتا۔پس انسان کو آزاد چھوڑا گیا اور تبلیغ کو اس کی ہدایت کا ذریعہ بنایا گیا۔پس ہماری جماعت کو اپنے فرائض کو تندہی سے ادا کرنا چاہیئے۔اور ہر احمدی کو اپنے اوپر فرض کر لینا چاہیئے کہ میں ایک احمدی سال میں ضرور بناؤں گا۔اور اگر میں سال میں کم از کم ایک