خطبات محمود (جلد 28) — Page 307
خطبات محمود 307 سال 1947ء اپنا محبوب اور اپنا پیارا بنانا چاہتا ہے۔وہ ہمیں تباہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ ترقی دینا چاہتا ہے۔ہمیں یقین ہے کہ ہمارا خدا ہم سے محبت رکھتا ہے۔اسلام اُس کا سچا دین ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے سچے رسول ہیں ، قرآن اُس کی کچی کتاب ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اسلام قیامت تک کے لئے ہے اور قرآن کبھی نہ منسوخ ہونے والی کتاب ہے۔دُنیا کی نجات اسی مذہب اور اسی کتاب کی تعلیم پر عمل کرنے میں ہے۔اور ہمیں یقین ہے کہ اس زمانہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی خدمت کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو مبعوث فرمایا ہے اور خدا نے اپنے ہاتھ سے ہماری جماعت کو قائم کیا ہے۔خدا اپنے لگائے ہوئے پودے کو دشمن سے کبھی تباہ نہیں ہونے دے گا۔خدا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا اس ملک میں کبھی نیچا نہیں ہونے دے گا۔خدا قرآن کو اس ملک میں کبھی ذلیل نہیں ہونے دے گا۔وہ ضرور ان کو پھر عزت بخشے گا اور ان کو فتح و کامرانی عطا کرے گا۔ہاں اگر ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے یہ ابتلاء لمبا ہو جائے تو اور بات ہے ورنہ خدا تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ اسلام کی فتح ہو، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح ہو، قرآن کی فتح ہو، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فتح ہو، احمدیت کی فتح ہو اور پھر اسلام کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہرائے۔مبارک ہے وہ جو خدا تعالیٰ کی فوج میں شامل ہوتا ہی اور اس عید اور فتح کا دن لانے میں اپنی قربانی پیش کرتا ہے۔کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے نام عزت کے ساتھ لئے جائیں گے اور خدا تعالیٰ کی رضا اور اُس کی خوشنودی کے ہمیشہ وارث ہونگے۔“ نماز جمعہ کے بعد حضور نے فرمایا: ”ہماری جماعت کے وہ دوست جو فوج میں ملازم ہیں اور جنہیں ٹرک مل سکتے ہیں اُن کو چاہیئے کہ جس طرح بھی ہو سکے ٹرکوں کا انتظام کر کے قادیان پہنچیں اور وہاں سے عورتوں اور پی بچوں کو نکالنے کی کوشش کریں۔فوجیوں کو اپنے اپنے رشتہ دار لانے کے لئے عام طور پر ٹرک مل جایا کرتے ہیں۔ہمیں چھپیں دوست اس وقت اپنے اپنے رشتہ داروں کو قادیان سے لا چکے ہیں۔وہاں آٹھ نو ہزار عورتیں اور بچے ہیں جو نکالنے کے قابل ہیں۔ورنہ غذا کی حالت اور حفاظتی کے انتظامات میں سخت وقتیں پیدا ہو جائیں گی۔جو فوجی دوست ہوں یہاں لاہور میں یا با ہر کسی اور مقام پر اور اُن کو ٹرک مل سکتا ہو اُن سب کو چاہیئے کہ وہ فور اٹرکوں کا انتظام کر کے ہمیں اطلاع