خطبات محمود (جلد 28) — Page 248
خطبات محمود 248 سال 1947ء کہ ساری قوم ہی اس معیار پر قائم ہے انتہائی درجہ کی جرات اپنے اندر رکھتی ہو اور انتہائی درجہ کی قربانیوں میں حصہ لینے کو تیار ہو۔دراصل قوم نام نہیں ہوتا چند مردوں کا بلکہ قوم میں شامل ہوتے ہیں بچے بھی اور قوم میں شامل ہوتی ہیں عورتیں بھی اور قوم میں شامل ہوتے ہیں نو جوان بھی۔اور قوم میں شامل ہوتے ہیں غریب بھی اور امیر بھی۔اور جاہل بھی اور عالم بھی۔جب تک یہ سارے کے سارے قربانی کے انتہائی اور اعلیٰ معیار پر قائم نہ ہوں اُس وقت تک قوم اپنی قربانیوں کے معیار پر پورا نہیں اُتر سکتی۔اللہ تعالیٰ ہی دلوں کو جاننے والا ہے اور وہی اس بات کو جانتا ہے کہ ہمارے دل کس حد تک اُن وعدوں پر قائم ہیں جو ہم نے خدا تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے ہیں۔اپنے غیر کی بات کو جاننا تو الگ رہا اور اپنے رشتہ داروں کی حالت کو جاننا بھی الگ رہا در حقیقت انسان اپنے دل کی حالت کو بھی صحیح طور پر سمجھ نہیں سکتا۔یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات ایک شخص جو اپنے آپ کو اعلیٰ درجہ کا مومن سمجھتا ہے وقت آنے پر کچا دھا گا ثابت ہوتا ہے اور اُس کا ایمان بناوٹی اور ملمع معلوم ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو کہ اس بات کو جانتی ہے کہ ہم میں سے کون اپنے وعدوں میں بچے ہیں اور کون اپنے متعلق غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور کون اپنے وعدوں میں جھوٹے ہیں۔جھوٹوں کی اصلاح کرنا اور اُن کے دلوں میں ایمان پیدا کرنا یہ بھی خدا تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔اور کمزوروں کو طاقت دینا اور اُن کے اندر جرات اور بہادری اور استقلال پیدا کر دینا یہ بھی خدا تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔اور مضبوط اور وعدوں کے سچے لوگوں کو اپنے ایفائے عہد کے مقام پر قائم رہنے دینا اور انہیں نیچے گرنے سے بچانا یہ بھی خدا تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔پس اس بارہ میں سارا ہی معاملہ خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔یہی وجہ ہے کہ سورہ بقرہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور غیر قوموں کے اختلافات کو بیان کرنے کے بعد ہمیں یہ دعا سکھائی ہے کہ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأَنَا الى ! ہو سکتا ہے کہ ہمارے دلوں میں تو ایمان ہو اور ہم سچے دل سے تیرے دین میں داخل ہوں لیکن ہماری خطاؤں اور غلطیوں سے ہمارے ایمان کمزور ہو چکے ہوں اور انہیں اندر ہی اندر کھن کھا چکا ہو جبکہ ظاہری نے شکل کے لحاظ سے تو وہ محفوظ نظر آتے ہوں لیکن اندر سے وہ کھو کھلے ہو چکے ہوں اور وقت پر صحیح ثابت نہ ہوں اس لئے ہم تیرے ہی حضور میں عرض کرتے ہیں رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا