خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 498

*1946 498 خطبات محمود آکر تلوار نکال لی اور کہا کہ خُو مار ڈالے گا نہیں تو کلمہ پڑھو۔لالہ جی وہاں سے بھاگے اور لڑکا ان کے پیچھے پیچھے بھاگا۔آخر ایک جگہ پر لڑکے نے لالہ جی کو پکڑ لیا اور کہا پڑھو کلمہ۔چونکہ لالہ جی بہت ڈر چکے تھے اس لئے کہنے لگے اچھا پڑھاؤ۔لڑکے نے پھر کہا پڑھو کلمہ۔لالہ جی نے کہا۔کلمہ مجھے تو نہیں آتا تم پڑھاؤ تو میں پڑھ لوں گا۔اس پر لڑکا کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہنے لگا۔خو تمہارا قسمت اچھا تھا کلمہ مجھے بھی نہیں آتا۔ابھی تم یہ مثال سن کر کس طرح بے تحاشا ہنس پڑے ہو حالا نکہ خطبہ میں ہنسنا منع ہے لیکن یہ چیز تمہاری نظروں سے اوجھل ہو گئی کہ میں تمہاری ہی مثال بیان کر رہا ہوں۔جیسے کہتے ہیں کہ کسی حبشی نے پہلے دن شیشے میں اپنا منہ دیکھا تو چونکہ شکل بہت مکر وہ تھی اِس لئے وہ حیران ہوا کہ یہ میری ہی شکل ہے یا کسی اور کی۔پس جس شکل کے متعلق میں نے ذکر کیا ہے وہ تمہاری ہی شکل ہے کسی اور کی نہیں۔تم دنیوی کاموں کے لئے کتنی کتنی محنتیں کرتے ہو اور کتنی تکلیفیں برداشت کرتے ہو۔کبھی تم نے قرآن کریم کے پڑھنے کے لئے بھی اتنی محنتیں اور کوششیں کیں ؟ اگر نہیں کیں اور یقینا نہیں کیں تو تم دنیا کو کس طرح فتح کرو گے اور کس طرح دنیا کو ہدایت کی طرف لے آؤگے؟ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ تم کو اُس وقت تک فتح نہیں ہو سکتی جب تک تم قرآن کریم کو اپنے لئے نذیر نہیں بناتے ، جب تک تم قرآن کریم کو اپنے لئے نذیر نہیں بناتے اُس وقت تک تم اسے دنیا کے لئے نذیر نہیں بنا سکتے۔جب قرآن کریم تمہارے سینوں میں ہو گا، جب قرآن کریم تمہاری زبان سے نکلے گا، جب قرآن کریم تمہاری قلموں سے نکلے گا اُس وقت قرآن کریم تمہارے لئے بھی اور باقی دنیا کے لئے بھی ہدایت کا موجب ہو گا۔تمہاری روحانیت کی درستی اور باقی دنیا کی روحانیت کی درستی قرآن کریم کے ساتھ وابستہ ہے۔جیسا کہ میں اوپر بیان کر آیا ہوں کہ یا تو اللہ تعالیٰ نذیر ہے یا قرآن کریم نذیر ہے تم نذیر نہیں ہو۔تم ان دونوں کے واسطہ سے نذیر بنتے ہو۔خدا تعالیٰ تمام دنیا کے لئے نذیر اس طرح ہے کہ اس کا روئے سخن سب کی طرف ہے۔غریبوں ، امیروں میں اس کے نزدیک کوئی فرق نہیں۔زبانوں اور ملکوں کا اس کے نزدیک کوئی فرق نہیں۔وہ سب کا خدا ہے اور سب کی ہدایت کے