خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 425

خطبات محمود ا 425 *1946 غلام بنانے کی خاطر تمام قسم کے ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ملایا میں چینیوں کو زبر دستی ٹھونسا جا رہا ہے۔ہندوستان سے چل کر ایران پھر فلسطین، مصر، انڈو نیشیا ان سارے ہی علاقوں میں مسلمان سخت خطرات میں گھرے ہوئے ہیں۔پس تمام دوستوں کو چاہئے ان دنوں میں خاص طور پر دعائیں کریں۔دوسرے مسلمانوں کو بھی تحریک کرنی چاہئے کہ وہ بھی دعاؤں میں لگ جائیں۔سوائے اس کے مسلمانوں کے لئے کوئی چارہ نہیں۔مسلم لیگ آخر کیا کر سکتی ہے ؟ وہ ریزولیوشن ہی پاس کر سکتی ہے کیونکہ مسلمانوں میں استقلال سے کام کرنے کی عادت نہیں رہی۔ایسے مسلمانوں سے آخر وہ کتنا کام لے سکتی ہے۔جب تک مسلمان دنیا طلبی اور عیش و عشرت کے سامانوں کو نہیں چھوڑتے اور ہر قسم کی قربانیوں کے لئے منظم نہیں ہو جاتے اور اپنے آپ کو ایسی قربانیوں کے لئے تیار نہیں کرتے جو کہ تخت ظلال السُّيُوفِ کی جاتی ہیں اُس وقت تک کامیابی ناممکن ہے اور ان سے کوئی شخص بھی کام نہیں لے سکتا۔مسلمان خدائی مصیبتوں کو برداشت کر سکتے ہیں اور اس پر صبر کر سکتے ہیں لیکن انسانی مصیبتوں پر صبر نہیں کر سکتے کیونکہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی مصیبتوں کے سہنے کی عادت ہو گئی ہے اور اس قسم کے عذاب کا مقابلہ کرنے اور ان پر صبر کرنے کے لئے بے عملی کی ضرورت ہے۔لیکن جہاں انسانوں سے مقابلہ ہو وہاں ان کے عذاب اور تکلیف کو ہٹانے کے لئے عمل کی ضرورت ہے۔بے عملی سے وہ عذاب اور بھی شدید ہو جاتا ہے۔پس اس وقت مسلمان خدائی مصیبتوں کے علاوہ بندوں کی مصیبتوں کا نشانہ بنائے گئے ہیں اور ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ وہ سخت بے عمل ہو چکے ہیں اور کوئی تنظیم ان میں موجود نہیں۔ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے دوستوں کو دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ غیب سے مسلمانوں کی بیداری کے سامان پیدا کرے اور ان کی حالت کو بدل دے۔گو عام طور پر اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ انسان کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ دیتا ہے۔لیکن بعض وقت اللہ تعالیٰ جب ضرورت سمجھتا ہے تو معجزانہ طاقتیں بھی دکھا دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ اگر مسلمان بیدار نہیں ہوتے تو خدا تعالیٰ ہی اپنی قدرت کا ہاتھ دکھائے۔مسلمان چاہے کتنے ہی بُرے ہیں لیکن بہر حال مسلمان تو کہلاتے ہیں اور ان کے گرنے کی وجہ سے اسلام کی ترقی میں مشکلات پیداہوں گی اور تبلیغ کے رستہ میں