خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 321

*1946 321 خطبات محمود میں اس کی شکل تک دیکھنے کو تیار نہیں کیونکہ اس نے میرے باپ کو برابھلا کہا ہے۔میں نے بہت کوشش کی کہ ان کی صلح ہو جائے لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ صلح کے لئے رضامند نہ ہوئے۔میں نے اُن کو رخصت کر دیا اور چونکہ نماز کا وقت ہو چکا تھا نماز کے لئے چلا گیا۔نماز میں اُن کی ضد دیکھ کر مجھ پر رقت طاری ہو گئی اور میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا الہی! ہماری جماعت کے اخلاق کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو اتنا طول دے دیتے ہیں۔دوسرے دن وہی لڑکی میرے پاس آئی اور وہ ہنس رہی تھی۔اُس نے مجھے ہنستے ہوئے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُم کہا۔میں نے کہا کیا بات ہے؟ اُس نے کہا وہ مجھے لینے آئے ہیں اور میں چلی ہوں۔چنانچہ اُس کے بعد میاں بیوی میں محبت ہو گئی اور اب ان کے بہت سے بچے بھی ہیں۔پس قاضیوں کا فرض ہے کہ وہ باپ بن کر معاملہ کو سلجھانے کی کوشش کریں۔وہ یہ سمجھیں کہ لڑکی کا خاوند میرا بیٹا ہے اور یہ لڑکی میری بیٹی ہے۔اگر اس وقت میری بیٹی غلطی کرتی تو میں کیا کرتا۔جو درد اُن کو اپنی اولاد کے متعلق ہے وہی دردانہیں دوسرے لوگوں کے متعلق ہونا چاہئے۔اگر قاضیوں کے دل میں درد پیدا ہو گا تو لازمی بات ہے کہ دوسرے کے دل میں بھی درد پیدا ہو گا۔میاں بیوی کے جھگڑے لین دین کے جھگڑوں کی طرح نہیں کہ قاضی ایک مجسٹریٹ کی حیثیت سے فیصلہ کرنے بیٹھے بلکہ یہ قوم کے اخلاق کا سوال ہے۔اس لئے قاضی کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ کسی رنگ میں بھی وہ انسانی اخلاق کو تباہ کرنے والا نہ ہو۔جب وہ فیصلہ کرنے لگے تو اسے نظر آئے کہ میری بیٹی یا میرے بیٹے کی عمر کی بربادی کا سوال در پیش ہے۔کبھی کبھار اُسے طلاق اور خلع کی بھی اجازت دینی پڑے گی لیکن ایسی صورت میں اخلاق کے بگڑنے کا امکان کم ہو گا اور امید کی جاتی ہے کہ ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا کوئی پہلو اس میں نہیں ہو گا۔“ (الفضل 25 جولائی 1946ء) 2،1 بخاری کتاب النِّكَاح باب مَوْعِظَةُ الرَّجُلِ اِبْنَتَهُ لِحَالِ زَوْجِهَا 3: سیرت ابن ہشام جلد 4 صفحہ 251۔مطبوعہ مصر 1936ء 4: طبقات ابن سعد جلد 2 صفحہ 254 باب ذكر ما اوصى به رسول الله میلہ میں حجتہ الوداع کے موقع کا ذکر ہے۔