خطبات محمود (جلد 27) — Page 147
*1946 147 خطبات محمود ضروری نہیں کہ ہر ایک لڑکا بی۔اے یا ایم۔اے تک ہی تعلیم حاصل کرے بلکہ اپنی مادری زبان پڑھ لکھ لینا بھی بعض حالات میں بہت مفید ہوتا ہے۔جو بچہ اپنی مادری زبان اچھی طرح پڑھ لکھ سکتا ہے وہ اپنی زندگی اچھے رنگ میں گزار سکتا ہے۔انگریزوں میں ایم۔اے، بی۔اے کے لئے لوگ اس کثرت سے کوشش نہیں کرتے۔ایم۔اے اور بی۔اے کی ڈگری کی اہمیت تو ہمارے لئے ہے۔جو غیر ممالک والے ہیں۔انگلستان والوں کی تو انگریزی مادری زبان ہے۔اس لئے ان کے ہاں بی۔اے، ایم۔اے وغیرہ کو یہ اہمیت حاصل نہیں۔ان میں سے بہت ابتدائی پڑھنا لکھنا سیکھتے ہیں اور پھر خود بخود ترقی کرتے چلے جاتے ہیں۔پس سب سے ضروری بات یہ ہے کہ انسان اپنی مادری زبان پڑھ لکھ سکے۔اس سے آگے ترقی کرنا اس کے لئے آسان ہو جاتا ہے۔اب ہم انشاء اللہ جلدی ہی مدرسین کا انتظام کر دیں گے اور جس جگہ مدرسین نہیں ہیں وہاں کے لئے قادیان جا کر مدرسین بھجوا دیں گے۔میرا ارادہ تو یہ تھا کہ یہاں ایک ہائی سکول قائم کیا جائے تاکہ ہمارے بچوں کی پڑھائیاں خراب نہ ہوں اور وہ لوگ جو اپنے بچوں کو میٹرک تک پڑھانا چاہتے ہوں ان کے لئے آسانی پیدا ہو جائے۔لیکن افسوس کہ ابھی تک پرائمری تعلیم کا بھی احساس نہیں۔زمینداروں سے جب بچوں کے پڑھانے کے لئے کہا جائے تو وہ کہتے ہیں اگر ہمارے بچے پڑھنے بیٹھ جائیں تو ہمارے جانور کون چرائے اور ہمارے ہل کون چلائے۔ایسے لوگوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ وہ ایک ادنی چیز کی خاطر اپنے بچوں کو اعلیٰ چیز سے محروم کر رہے ہیں۔ان کے بچوں کی پیدائش سے پہلے بھی تو ان کے جانور چرنے کے لئے باہر جاتے تھے اور ان کے بچوں کے ہل چلانے سے پہلے بھی تو وہ ہل چلاتے تھے۔اگر خدا تعالیٰ انہیں یہ بچے نہ دیتا تو پھر بھی وہ خود اپنے کام کرتے۔اب اگر خدا نے انہیں یہ بچے دے دیئے ہیں تو انہیں چاہئے کہ چند سال قربانی کریں اور انہیں تعلیم کے لئے فارغ کر دیں۔میں نے بار بار تعلیم کی طرف توجہ دلائی ہے لیکن پھر بھی لوگ اس میں سستی سے کام لیتے ہیں۔میں تم سے یہ تو نہیں کہتا کہ تم دوسرے کے بچے پر رحم کرو۔میں تم سے یہ بھی نہیں کہتا کہ تم ہمسائے کے بچے کو نہ مارو بلکہ میں تو تمہیں یہ کہتا ہوں کہ تم اپنے بچے کی جان پر ظلم نہ کرو اور اس کی تعلیم کی فکر کرو۔کیا اس میں بھی کسی عقلمند کو کوئی کلام ہو سکتا ہے؟ پس میں