خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 417

$1945 417 خطبات محمود لیکن ہمارے موجودہ حالات ایسے نہیں کہ ہم دنیا میں تبلیغ کو وسیع کر سکیں۔ہاں دنیا میں تبلیغ کو وسیع کرنے کا ایک اور ذریعہ بھی ہے جس کا قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے۔قرآن شریف میں حج کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حج ایک عبادت ہے لیکن اس کے ساتھ تمہیں یہ بھی اجازت ہے کہ حج کے دنوں میں تم تجارت بھی کر لیا کرو۔کیونکہ اکثر لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنا کام کاج چھوڑ کر حج کے لئے جائیں تو اُن کو بہت سی مالی مشکلات پیش آجاتی ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حج گو عبادت ہے لیکن اگر اس کے ساتھ تم تجارت بھی کر لو تو ہماری طرف سے کوئی روک نہیں۔بے شک اپنے پاس سامانِ تجارت رکھو اور اسے راستے میں بیچتے چلے جاؤ۔حضرت خلیفہ اول ایک ہندوستانی کے متعلق بیان فرمایا کرتے تھے کہ وہ حج کے لئے گیا تو اس کے پاس روپیہ کافی تھا لیکن اس نے بخل کی وجہ سے یا خدا تعالیٰ کا کوئی نشان دیکھنے کی غرض سے ارادہ کیا کہ میں حج کے لئے جاتے ہوئے راستے میں کماتا جاؤں گا اور اس کمائی سے حج کروں گا۔چنانچہ وہ جہاز میں سوار ہو گیا کچھ مدت کے بعد چونکہ جہاز میں کوئی نائی نہیں تھا جب لوگوں کے بال بڑے ہوئے تو انہیں پریشانی لاحق ہوئی کہ اب کیا کیا جائے؟ ایک دن انہوں نے قینچی لی اور ایک آدمی جو انہی کے پاس بیٹھا سر کھجلا رہا تھا اس کے سر کے بال کاٹنے شروع کر دیئے۔ایسے سفر میں کون دیکھتا ہے کہ حجامت اچھی بنی ہے یا خراب۔اُن کا قینچی پکڑنا تھا کہ لوگوں نے انہیں نائی سمجھ کر یے دینے شروع کر دیئے اور ساتھ ساتھ حجامت بھی بنواتے چلے گئے۔وہ حجامتیں بناتے گئے اور پیسے جمع کرتے گئے۔تو حج کے دنوں میں محنت مزدوری کرنا منع نہیں کیونکہ غیر ملکوں میں جانے کے لئے روپے کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی طرح اگر ہم نے وسیع طور پر تبلیغ کرنی ہے تو ضروری بات یہ ہے کہ ہم ایسے کام کریں جن کے ذریعہ بغیر پیسے کے تبلیغ کر سکیں۔میں نے پچھلے خطبہ میں بتلایا تھا کہ ہندوستان کے ہزارہا شہروں میں صرف دو سو جگہیں ایسی ہیں جہاں احمد یہ جماعت کے ایک ایک یا دو دو تاجر پائے جاتے ہیں۔ابھی تھوڑے دن ہوئے ایک شخص کا خط آیا۔اُس نے لکھا تھا جس علاقہ سے میں آیا ہوں اُس میں میلوں میل تک کسی کو احمدیت کا علم بھی نہیں۔جس سے بھی ذکر کیا جائے وہ احمدیت سے کلی طور پر نا آشنا۔