خطبات محمود (جلد 26) — Page 353
خطبات محمود 353 $1945 یہی حال روحانی طاقتوں کا ہوتا ہے۔کئی نادان سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے پہلے بہت سی قربانیاں کر دی ہیں وہی ہمارے لئے کافی ہیں ہمیں آئندہ کے لئے قربانیاں کرنے کی ضرورت نہیں۔حالانکہ وہ ہر روز کھانا کھاتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ کل پرسوں یا اترسوں کا کھایا ہوا کھانا ہمارے لئے کافی ہو گا۔اور بغیر کسی کے کہنے کے ہر روز کھانا کھالیتے ہیں۔سوائے بچوں کے کہ والدین ان کو کہہ کر کھانا کھلاتے ہیں کہ کھانا کھالو نہیں تو معدہ خراب ہو جائے گا۔اور پانچ دس دن کی تاکید کے بعد وہ بھی اس نصیحت کے محتاج نہیں رہتے۔تو ہر وہ انسان جو یہ سمجھتا ہے کہ پچھلی قربانیاں اس کے لئے کافی ہیں وہ سخت غلطی پر ہے۔جس طرح کل کا کھایا ہوا اس کے آج کام نہیں آسکتا اسی طرح پچھلی قربانیاں انسان کو آئندہ کے لئے مستغنی نہیں کر سکتیں۔بلکہ روحانی زندگی کو بر قرار رکھنے کے لئے ہمیشہ نئی نئی قربانیوں کی ضرورت رہتی ہے۔پھر قربانیاں بھی اوقات کے بدلنے کے ساتھ بدلتی چلی جاتی ہیں۔ایک وقت مالی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے تو دوسرے وقت جانی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ ہمیشہ ایک ہی قسم کی قربانی کی کسی قوم کو ضرورت رہے۔پہلی قربانیاں اس موت سے بچانے کے لئے تھیں جو گزشتہ میں پیش آسکتی تھی۔اور آئندہ کی قربانیاں آئندہ کی ہلاکت سے بچنے کے لئے ہیں۔جس نے دو سال پہلے کھانا کھایا تھا اُس نے اس کھانے سے اُسی فاقہ کی موت سے نجات حاصل کی تھی جو دو سال پہلے آسکتی تھی۔اُس کھانے سے وہ دو سال بعد آنے والی موت سے نہیں بچ سکتا۔ނ میں پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ مومن کبھی بھی اپنی پچھلی قربانیوں کی وجہ سے مطمئن نہیں ہوتے۔بلکہ اپنے ایمان کی زیادتی کے لئے قربانیوں میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں۔اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک جان ایمان کی حالت میں عزرائیل کے سپرد نہ کر دی جائے اس سے پہلے کسی شخص کا مطمئن ہو جانا حد درجے کی حماقت ہے۔گور نمنٹ کے ٹیکسوں کے ادا کرنے میں کبھی ہمارے دل میں یہ خیال پیدا نہیں ہوا کہ ہم نے پچھلے سال ٹیکس ادا کر دیا تھا اس سال ادا کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ساری عمر ٹیکس ادا کرتے چلے جاتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کے معاملہ میں ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ کچھ عرصہ قربانی کر دی تو ہماری ذمہ داری ختم