خطبات محمود (جلد 26) — Page 25
$1945 25 خطبات محمود ہم نے اور ملکوں کو پھر کر دیکھا ہے اور ہمارے مبلغوں نے دوسری حکومتوں کو دیکھا ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ سوائے امریکہ کے کوئی اور حکومت ایسی نہیں جس کے ماتحت لوگوں کو ایسے آرام اور سکھ کے سامان میسر ہوں جیسے برطانیہ کے ماتحت ہیں۔پس میں ہندوستان کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اے ہندوستان! پیشتر اس کے کہ تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں، تو ظالم بھیٹریوں کا شکار ہو جائے یا تیرے کھلے دروازوں میں سے غنیم 3 اندر گھس آئے تو انگلستان کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھا کہ یہی ملک ہے جو تیری سب سے زیادہ مدد کر سکتا ہے۔تیری آزادی اور تیری حفاظت کے لئے اتنی قربانی کر سکتا ہے جتنی اس سے دُگنی آبادی رکھنے والے ممالک بھی کبھی کرنے کو تیار نہیں ہو سکتے۔تاریخ میں اس کی بہت ہی کم مثالیں ہیں کہ انگلستان نے کبھی اپنے ساتھیوں کو چھوڑا ہو۔کہا جاتا ہے کہ وہ فوائد اُٹھاتا ہے مگر دنیا میں کون ہے جو فائدہ نہیں اٹھاتا؟ کیا دوست دوست سے فوائد نہیں حاصل کرتے ؟ کیا مائیں اپنے بچوں سے فوائد حاصل نہیں کرتیں ؟ کیا باپ اپنے بیٹوں سے اور بھائی بھائیوں سے فوائد حاصل نہیں کرتے ؟ اور جب دوست دوست سے ، ماں باپ اولاد سے اور بھائی بھائیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو اگر انگلستان نے ایمپائر کے دوسرے ممالک سے فوائد حاصل کر لئے تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے۔اگر ہر قوم اور ہر ملت میں دوست دوست سے ،ماں باپ اولا د سے اور بھائی بھائی سے فائدہ اٹھاتا ہے تو اگر انگلستان اپنے ساتھ والے ملکوں سے فائدہ اٹھاتا ہے تو اس پر اس وجہ سے کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔بے شک وہ فائدہ اٹھاتا ہے مگر فائدہ پہنچاتا بھی تو ہے۔اور یہ ایک حقیقت ہے کہ خطرہ کی حالت میں جس قسم کی مدد اپنے ساتھ والے ملکوں کی انگلستان نے کی ہے کبھی کسی نے نہیں کی۔انگلستان ہر دفعہ ایسی ہی جنگ میں گودا ہے کہ جس میں سے اس کے بچ نکلنے کے امکانات بہت کم ہوتے تھے۔مگر ہمیشہ خدا تعالیٰ نے غیر معمولی طاقتوں سے اس کی مدد کی ہے اور اسے بچالیا ہے۔میں نے انگریزوں کے بعض مخالفوں کے سامنے یہ بات پیش کی ہے کہ اور باتوں کو جانے دو صرف اتنی ہی بات بتاؤ کہ اس کی وجہ کیا ہے کہ گزشتہ کئی صدیوں میں جب بھی انگلستان کسی جنگ میں گوداوہ ایسے خطرات میں مبتلا ہو گیا کہ اس کے مارے جانے میں بہت کم