خطبات محمود (جلد 26) — Page 303
+1945 303 خطبات محمود تالیاں پیٹیں اور نعرے لگائے۔اُس وقت مسٹر چرچل نے یہ فقرہ کہا کہ میں تمہیں گورنمنٹ کا ایک راز بتانے آیا ہوں۔اور پھر مذاقاً کہا کہ تم یہ راز کسی دوسرے کو نہ بتانا۔وہ راز یہ ہے کہ کنزرویٹو پارٹی اس انتخاب میں جیت گئی ہے۔گویا وہ اپنی کوششوں اور اپنی طاقت کے اندازہ کے مطابق یہ خیال کرتے تھے کہ یہ ناممکن بات ہے کہ ہم ہار جائیں۔ایک بچہ ایسی بات کہے تو اور بات ہے لیکن ایک ایسا آدمی جو ایک اہم پارٹی کا لیڈر ہے اور ایسے وقت میں جبکہ وہ دنیا میں غیر معمولی حیثیت حاصل کر چکا ہے اور ایسے وقت میں جبکہ وہ اپنے دشمن کے مقابلے میں کھڑا ہے اُس وقت اُس کا یہ کہنا کہ میں تمہیں گورنمنٹ کا یہ راز بتانے آیا ہوں کہ کنزرویٹو پارٹی جیت گئی ہے بتاتا ہے کہ مسٹر چرچل کو اپنی فتح پر سو فیصدی یقین تھا۔لیکن مسٹر چرچل کے اس اعلان سے دو مہینے پہلے اللہ تعالیٰ مجھے یہ اطلاع دے چکا تھا کہ اب مسٹر ماریسن جیسے لوگوں کے کام کرنے کا وقت آیا ہے۔آج الیکشن کے نتیجہ کا اعلان ہو گیا ہے لیبر پارٹی انتخاب سے پہلے اپنے متعلق جو ناکامی کا خطرہ محسوس کرتی تھی وہ بھی غلط ثابت ہوا ہے اور کنزرویٹو پارٹی جو کامیابی کا یقین رکھتی تھی وہ بھی غلط ثابت ہوا ہے۔اور الیکشن میں 640 ممبروں میں سے 390 ممبر لیبر پارٹی کی طرف سے کامیاب ہوئے ہیں۔اور مسٹر چرچل کی پارٹی جس کے متعلق مسٹر چر چل نے کہا تھا کہ میں تمہیں گورنمنٹ کا راز بتاتا ہوں کہ کنزرویٹو پارٹی جیت چکی ہے اُس کے گزشتہ ممبروں میں سے نصف کے قریب ممبر آئے ہیں۔پچھلی دفعہ 350 ممبر تھے اور اس دفعہ 185 ممبر آئے ہیں۔اس خبر میں عجیب تلازمہ 1 ہے۔میں حیران ہوں اللہ تعالیٰ نے اس خبر کو روکے رکھا اور یہ خبر اس سفر سے نہ دس دن پہلے اور نہ دس دن بعد بتائی بلکہ ڈلہوزی میں ہی بتائی۔اس میں یہ اشارہ تھا کہ ڈلہوزی میں اس خبر کی اطلاع دی گئی ہے اور ڈلہوزی میں ہی اس کے پورا ہونے کی خبر آئے گی۔یہ ایک قسم کا تلازمہ ہے۔جیسے قرآن مجید میں مُؤْمِنُونَ يَا يُوقِنُونَ آتا ہے۔مُؤْمِنُونَ يَا يُوقِنُون کو ایک دوسرے کے بعد لانے میں بظاہر کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آتا لیکن اس میں ایک ردم اور توازن اور شعریت ہے۔اسی طرح حادثات میں بھی بسا اوقات شعریت اور توازن پایا جاتا ہے۔اس تلازم میں اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ اے ڈلہوزی میں