خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 23

خطبات حمود 23 +1945 ضرور ہیں۔اور جب خدا تعالیٰ کی حکمتیں اس کی مقتضی ہوں اور دنیا کی ترقیات اور دنیا کا امن انگریزوں سے وابستہ ہو اور جب خدا تعالیٰ نے اس قوم کی کمزوریوں کے باوجو داس میں بہت سی خوبیاں رکھی ہوں تو ہم خدا تعالیٰ کی باتوں کو کیسے رد کر دیں اور ان کی طرف سے اندھے کس طرح بن جائیں۔ہماری جماعت کا تعاون ہمیشہ حکومتوں کو حاصل رہا ہے خصوصاً انگلستان کو۔کیونکہ ہم نے قرآن کریم کی تعلیم سے یہی سمجھا ہے کہ اپنے ملک کی حکومت سے تعاون کرنا چاہیے۔اس کی راہ میں ہمارے لئے مشکلات بھی پیدا ہوئیں، ہمیں نقصان بھی پہنچے مگر جماعت نے بالعموم ہر حکومت سے تعاون ہی کیا ہے۔پس ہماری جماعت کا سوال نہیں۔دوسروں کے جذبات اور احساسات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں انگلستان کو یہ نصیحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں خواہ میری یہ نصیحت ہوا میں ہی اُڑ جائے۔اور اب تو ہوا میں اُڑنے والی آواز کو بھی پکڑنے کے سامان پیدا ہو چکے ہیں۔یہ ریڈیو ہوا میں سے ہی آواز کو پکڑنے کا آلہ ہے۔پس مجھے اس صورت میں اپنی آواز کے ہوا میں اُڑ جانے کا بھی کیا خوف ہو سکتا ہے۔جبکہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری ہوا میں اڑنے والی آواز کو بھی لوگوں کے کانوں تک پہنچا دے۔پس میں انگلستان کو نصیحت کرتا ہوں کہ اے انگلستان ! تیرا فائدہ ہندوستان سے صلح کرنے میں ہے۔خدا تعالیٰ کا منشاء یہی ہے کہ تم دونوں مل کر کام کرو اور دونوں مل کر دنیا میں امن قائم کرو، دونوں مل کر دنیا میں صحیح آزادی کو قائم کرو۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بلا وجہ ہندوستان میں نہیں بھیجا بلکہ اس لئے بھیجا ہے کہ وہ اس ملک سے بڑے بڑے کام لینا چاہتا ہے۔بے شک یہ ملک ابھی تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روحانی غلامی سے محروم ہے اور مذہبی طور پر ہمارے مخالف اس میں کثرت سے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بلا وجہ اس ملک میں نہیں بھیجا۔یہ ملک جلد یا بدیر ، آج نہیں تو کل ضرور آپ کی غلامی میں آنے والا ہے۔اس ملک کے لوگ خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان یا کسی اور قوم و مذہب کے ساتھ تعلق رکھنے والے ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف آنے والے ہیں۔اور ضرور آکر رہیں گے اور دنیا کی کوئی طاقت ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جدا نہیں رکھ سکے گی۔یہ