خطبات محمود (جلد 26) — Page 196
+1945 196 (15) خطبات محمود آئندہ نسلوں میں قربانی، محنت، اور بر وقت کام کرنے کی روح کس طرح پیدا کی جائے (فرمودہ 4 مئی 1945ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: تین دن کی بات ہے ڈلہوزی میں میں نے ایک رؤیاد یکھا کہ کوئی شخص ماریسن نامی انگریز ہیں وہ کہتے ہیں کہ چالیس سال کے عرصہ تک کانگڑہ کے ضلع میں میرے جیسا اور عظمند آدمی پیدا نہیں ہو گا یا شاید یہ کہا ہے کہ پایا نہیں جائے گا۔میں اُس وقت رؤیا میں سمجھتا ہوں کہ ماریسن سے وہ وزیر مراد ہے جو لیبر پارٹی کی طرف سے وزارت میں شامل ہیں۔یہ فقرہ سن کر میرے دل میں فوراً یہ بات گزری کہ انشاء اللہ “ انہوں نے نہیں کہا۔اگر یہ ”انشاء اللہ “ کہہ لیتے تو اچھا تھا۔پھر ساتھ ہی میرے دل میں یہ سوال بھی پیدا ہوا کہ کانگڑے کے ساتھ ان کا کیا تعلق ہے۔کانگڑہ ہندوستان کا علاقہ ہے اور یہ انگلستان کے رہنے والے ہیں۔اس سوال کے پیدا ہوتے ہی میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ کانگڑے کا لفظ استعارہ انگلستان کے لئے بولا گیا ہے۔اور کانگڑے میں چونکہ آتش فشاں پہاڑ ہیں اس لفظ میں انگلستان کی آئندہ حالت کو ظاہر کیا گیا ہے کہ انگلستان میں بھی بہت کچھ رد و بدل اور اُتار چڑھاؤ کا زمانہ آرہا ہے اور جس طرح آتش فشاں علاقے میں زلزلے آتے رہتے ہیں اسی طرح انگلستان میں بھی سیاسی اور اقتصادی