خطبات محمود (جلد 26) — Page 110
+1945 110 خطبات محمود برداشت نہیں کرتے اور کہ احمدی جھوٹ بولنے والے نہیں ہوتے۔بچے احمدی بددیانت نہیں ہوتے۔اگر ان میں سے کوئی ایسا فعل کرتا ہے تو وہ ظاہر کر دیا جاتا ہے۔کیونکہ جماعت انہیں ایسی سزا دیتی ہے جس سے وہ ہمیشہ کے لئے مشہور ہو جاتے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان اپنے اخلاق کو درست کرنے کی کوشش کریں گے اور میں امید کرتا ہوں کہ تم میں سے ہر فرد جھوٹ اور بد دیانتی کو مٹانے کی کوشش کرے گا۔جب تک ہم جھوٹ اور بد دیانتی کو مٹانے میں کامیاب نہیں ہوں گے اُس وقت تک جماعت معیاری سکتہ پر پوری نہیں اتر سکتی۔معیاری سکہ پر جماعت تبھی پوری اتر سکتی ہے جب ساری کی ساری جماعت سچائی کے ساتھ مشہور ہو اور جب ساری کی ساری جماعت بد دیانتی سے بکلی پاک ہو۔خدام الاحمدیہ کا دعویٰ ہے کہ ہم خدمت خلق کرتے ہیں۔الفضل میں چھپتا ہے کہ ہم نے خدمت خلق کا یہ کام کیا، فلاں کے کھیت کی منڈیر بنائی، فلاں کے کھیت کو پانی دیا اور فلاں کا کھیت کاٹا۔بے شک وہ بھی خدمتِ خلق ہے لیکن یہ خدمت خلق نہایت ہی ضروری ہے۔آیا خدام نے کبھی یہ خدمت خلق بھی کی ہے؟ میں ان کو اس خدمت خلق کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو غیر کی بھی خدمت ہے اور اپنی بھی خدمت ہے کہ سچائی اور دیانت قائم کی۔میں نے بار بار خدام الاحمدیہ کو توجہ دلائی ہے مگر اس وقت تک باوجو د توجہ دلانے کے انہوں نے اخلاق کی درستی کی طرف توجہ نہیں کی۔یہ کہ کسی کے کھیت کو پانی دے دیا یا منڈیر میں بنا دیں اس سے کیا بنتا ہے۔اصل کام تو قوم کے اندر سچائی اور دیانت کو قائم کرنا ہے۔جب وہ اس چیز کو قائم کریں گے تو نہ صرف وہ ایک کھیت کو تباہ ہونے سے بچائیں گے بلکہ ہزاروں ہزار آدمیوں کو بچائیں گے جنہوں نے ان مکاروں کا شکار ہونا تھا۔آخر بد دیانت آدمی اپنا روپیہ نہیں کھاتا دوسروں کا کھاتا ہے۔اپنی بدنامی نہیں کرتا بلکہ ساری قوم کی بدنامی کا موجب ہوتا ہے۔پس قومی ترقیات تمام کی تمام دیانت اور سچائی کے ساتھ وابستہ ہیں اور جس قوم میں یہ دونوں چیزیں نہیں پائی جاتیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ایک شخص کسی انگریزی فرم کو آرڈر دے کر گھر آجاتا ہے اور اُسے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہو تا۔اور اگر وہ کسی ہندوستانی فرم کو آرڈر دے کر واپس آتا ہے تو اُس کا دل گھٹتا رہتا ہے کہ خبر نہیں پتھر یا کیا چیز بھیج دیں۔اسی