خطبات محمود (جلد 26) — Page 94
خطبات محمود 94 +1945 فضل سے لوگوں کے دلوں کو کھول دے اور دور ثانی کی تکمیل کے سامان پیدا کر دے۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمارے نئے آنے والے بھائیوں اور پچھلی نسلوں کو جنہوں نے پہلے دور میں حصہ نہیں لیا یا جن کو توفیق نہیں ملی کہ وہ دور اول میں حصہ لیں توفیق دے کہ وہ اب دورِ ثانی میں حصہ لیں۔اور خدا تعالیٰ جماعت کی بیداری کو قائم رکھے کہ پہلی کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری اور تیسری کے بعد چوتھی پانچ ہزاری فوج آگے آکر اس بوجھ کو اٹھاتی رہے اور قیامت تک یہ سلسلہ چلتا چلا جائے۔بلکہ پانچ ہزاری کی بجائے پھر یہ تعداد بڑھتی چلی جائے اور پانچ ہزار کے بعد دس ہزار اور دس ہزار کے بعد ہمیں ہزار اور میں ہزار کے بعد پچاس ہزار کی فوج آگے آئے اور اس بوجھ کو اٹھاتی چلی جائے۔یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو دعامانگی ہے کہ ایک لاکھ سپاہی مجھے دیا جائے خدا کرے کہ ایک لاکھ نہیں بلکہ کئی لاکھ سپاہی ہمیشہ ہمیش کے لئے اسلام کی خدمت کے لئے احمدیت میں پیدا ہوتے رہیں جو تبلیغ اسلام کا بوجھ اُٹھاتے چلے جائیں۔ہم کمزور ہیں، ہمارے ارادے بھی کمزور ہیں اور ہماری تمام کوششیں اُس وقت تک بیکار ہیں جب تک کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مدد اور نصرت نہ آئے۔ہماری غریب جماعت میں سے پانچ ہزار آدمیوں کا نکلنا اور اسلام کی خدمت کے لئے مشقت اٹھا کر اور اپنے بیوی بچوں کو تکلیف میں رکھ کر سال بسال محنت کر کے اور پیسہ پیسہ جوڑ کر ایسے سامان پیدا کرنا جس سے تبلیغ اسلام جاری رہے خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ اتنی مقبول قربانی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے مال میں اتنی برکت دے دی کہ اُس کے فضل و کرم سے اس روپیہ سے چار سو مربع زمین پیدا کرنے کی طاقت مل گئی۔جس کی آمدنی سے ہمیشہ ہمیش کے لئے دین کی خدمت ہو سکے۔اُس خدا سے میں دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری اس حقیر اور کمزور قربانی میں مزید برکت دے دے اور ہمارا یہ روپیہ قیامت تک دین کی خدمت میں لگار ہے۔اور خدا تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے بچوں اور عزیزوں اور دوستوں کے دلوں میں یہ تحریک جاری رکھیں اور کم از کم اتنی ہی تعداد دوسرے دور میں حصہ لینے والوں کی پیدا کر سکیں اور یہ تعداد بڑھتی چلی جائے۔اور ہماری اس حقیر قربانی کے ذریعہ ایسا بیج بویا جائے جس میں سے ایسا درخت اُگے کہ ساری دنیا اس کے سایہ تلے آرام کے