خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 767 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 767

$1944 767 خطبات محمود فائدہ ہو سکتا ہے۔اگر خدام روزانہ ایک سو گھر بھی اس طرح چیک کرنے کا انتظام کر لیں تو پانچ روز میں پانچ سو گھر چیک کر سکتے ہیں۔اس کا ایک نتیجہ یہ ہو گا کہ کمزور سمجھ جائیں گے کہ ہم اپنی کمزوری کو نہیں چھپا سکیں گے اور بے احتیاطی کرنے والے محتاط ہو جائیں گے ناواقفوں کو علم ہو جائے گا۔پس یہ تین ذرائع ہیں جن پر اگر عمل کیا جائے تو جلسہ کی آمد بڑھائی اور خرچ گھٹایا ہے جاسکتا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ قادیان کی جماعت اپنے روایتی اخلاص کے مطابق اس بارہ میں بھی اصلاح کرے گی اور ایسا رویہ اختیار کرے گی کہ ہر فرد یہی سمجھے گا کہ سلسلہ کے اموال کی حفاظت میرے ذمہ ہے اور میں ہی اس کے لیے جواب دہ ہوں۔اور وہ ثابت کر دیں گے کہ سلسلہ کے اموال کی نگرانی وہ اپنے اموال سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔اگر اِن باتوں پر عمل کیا جائے تو اخلاقی طور پر بھی بہت عمدہ اثر ہو سکتا ہے۔مثلاً جب کوئی شخص گھر میں بے حساب روٹی منگواتا ہے اور مہمانوں کے علاوہ اُس کے گھر والے بھی وہی کھاتے ہیں تو مہمانوں کو یہی خیال ہوتا ہے کہ یہ بد دیانتی کرتا ہے۔بعض لوگ بے حساب کھانا منگوا لیتے ہیں۔خود تو کھاتے ہی ہیں مگر روٹی اور سالن ضائع بہت کرتے ہیں اور ارد گر دبانٹ بھی دیتے ہیں ہیں اور اس طرح دوسروں پر اپنا احسان قائم کرتے ہیں۔اور ایسا کر کے جہاں سلسلہ کا نقصان کرتے ہیں وہاں اپنے ساتھ ان مہمانوں کا تقوی بھی کمزور کرتے ہیں جن کے سامنے ایسا کرتے تھے ہیں۔ایسی باتوں کو دیکھ کر مہمانوں پر یقیناً بُرا اثر ہوتا ہے۔لیکن اگر باہر سے آنے والے دیکھیں کہ قادیان کے ہر مرد اور ہر عورت اور ہر بچے اور ہر بوڑھے کو سلسلہ کے مال کا درد اپنے مال سے بھی زیادہ ہے اور اگر وہ دیکھیں کہ جو لوگ اپنے لیے بھی لنگر سے کھانا منگواتے ہیں وہ علی الاغلان منگواتے ہیں تو پھر اُن پر برا اثر نہیں ہو سکتا۔میں امید کرتا ہوں کہ محلوں والے بھی، خدام بھی، انصار بھی، اطفال بھی اور لجنات بھی اپنے الگ الگ جلسے کر کے لوگوں کو پوری طرح یہ باتیں سمجھائیں گے کہ وہ کھانا ضائع کر کے سلسلہ کا نقصان نہ کریں۔اور سب مل کر کوشش کریں گے کہ اس سال جلسہ کا خرچ کم سے کم ہو۔اور نظارت بیت المال، جماعتیں اور قادیان کے دوست کو شش کریں گے کہ جلسہ کا چندہ قواعد کے مطابق اور بروقت ہے