خطبات محمود (جلد 25) — Page 71
$1944 71 محمود پھر لکھا تھا۔" وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہو گا"۔اور رویا میں بھی ہے گیا کہ ایک قوم ہے جس کا میں ایک شخص کو لیڈر مقرر کرتا ہوں اور ان الفاظ میں جیسے ایک طاقتور بادشاہ اپنے ماتحت کو کہہ رہا ہو، اسے کہتا ہوں اے عبد الشکور ! تم میرے سامنے اس بات کے ذمہ دار ہوگے کہ تمہارا ملک قریب ترین عرصہ میں توحید پر ایمان لے آئے ، شرک کو ترک کر دے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم پر عمل کرے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کو اپنے مد نظر رکھے۔یہ "صاحب شکوہ ا عظمت" کے ہی کلمات ہو سکتے ہیں جو ڈیا میں میری زبان پر جاری کیے گئے۔اور اور یہ جو پیشگوئی میں ذکر آتا ہے کہ "ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے"۔یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس پر کلام الہی نازل ہو گا اور رویا میں اس کا بھی ذکر آتا ہے۔چنانچہ الہی ہے تصرف کے ماتحت رؤیا میں میں سمجھتا ہوں کہ اب میں نہیں بول رہا بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہامی طور پر میری زبان پر باتیں جاری کی جا رہی ہیں۔پس اس حصہ میں پیشگوئی کے انہی الفاظ کے پورا ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ "ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے"۔پھر رؤیا کا یہ حصہ بھی پیشگوئی کے ان الفاظ کی تصدیق کرتا ہے کہ رویا میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر قدم جو میں اٹھا رہا ہوں وہ کسی پہلی وحی کے مطابق اٹھا رہا ہوں۔اب میں خیال کرتا ہوں کہ یہ جو میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ میں جو سفر کروں گا وہ ایک سابق وحی کے مطابق ہو گا اس سے اشارہ مصلح موعود والی پیشگوئی ہی کی طرف تھا۔اور یہ بتایا گیا تھا کہ میری زندگی اس پیشگوئی کا نقشہ ہے اور الہی تصرف کے ماتحت ہے۔اب میں سمجھتا ہوں کہ پہلی پیشگوئی کے متعلق جو یہ ابہام رکھا گیا کہ یہ کس کی پیشگوئی ہے، اس میں یہ حکمت تھی تا مصلح موعود کی پیشگوئی کی طرف توجہ دلا کر اس ذہنی علم کا رویا میں دخل نہ ہو جائے جو مجھے اس پیشگوئی کی نسبت حاصل تھا۔اس قسم کی تدابیر رویا اور الہام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ اختیار کی جاتی ہیں اور اسرار سماویہ میں سے ایک سر میں یہ وہ مشابہتیں ہیں جو میری رؤیا اور حضرت مسیح موعود علیہ والسلام کی پیشگوئی میں پائی جاتی ہیں۔اب میں واقعات کے لحاظ سے اس پیشگوئی کا تطابق دیکھتا ہوں۔اس بارہ میں جماعت