خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 2

$1944 2 خطبات م محمود اُسی وقت تک میں دوستوں تک اپنی آواز پہنچا سکوں گا۔سب سے پہلے تو میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے محض اپنے فضل و کرم سے ہماری جماعت کو تعداد کے لحاظ سے بہت بڑی زیادتی بخشی۔ایک وہ وقت تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی زندگی میں اگر جلسہ سالانہ پر اتنے آدمی جمع ہوتے جتنے اس مسجد میں اس وقت جمع ہیں تو اسے بہت بڑی کامیابی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔میں نہیں کہہ سکتا کہ اس وقت کتنے آدمی مسجد میں جمع ہوں گے لیکن میر اخیال ہے پانچ چھ سو کے قریب ضرور ہوں گے اور اتنے ہی یعنی سات سو کے قریب آدمی تھے جو حضرت مسیح موعود عليه الصلواۃ والسلام کی زندگی کے آخری سال قادیان میں جلسہ سالانہ پر جمع ہوئے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُس وقت بار بار فرماتے تھے کہ خدا نے ہمیں جس کام کے لیے دنیا میں بھیجا تھا وہ ہو گیا ہے اور اب اتنی بڑی جماعت پیدا ہو گئی اور اتنی کثرت سے لوگ ایمان لے آئے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں ہمارا مقصد جو اِس دنیا میں آنے کا تھا وہ پورا ہو گیا ہے۔اب کجاوہ دن تھا کہ جلسہ سالانہ پر اس قدر اژدہام کو عظیم الشان اثر بام سمجھا جاتا تھا اور کجا یہ وقت ہے کہ اب لاہور شہر میں ہی ہماری ایک جمعہ کی نماز میں اس کے قریب قریب آدمی جمع ہو جاتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اُس کی تائید کا ایک عظیم الشان نشان ہے اور جن جماعتوں کے ساتھ اس کی نصرت ہوتی ہے وہ اسی طرح بڑھتی چلی جاتی اور دشمن کی نگاہوں می میں کانٹوں کی طرح کھٹکنے لگ جاتی ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی تقدیر پورا ہوئے بغیر نہیں رہتی اور با وجود دشمنوں کی حاسدانہ نگاہوں کے وہ اپنی جماعت کو بڑھاتا اور اسے دنیا میں ترقی دیتا چلانے جاتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ چیز اپنی ذات میں ہمارے لیے بہت بڑی خوشی کا موجب ہے لیکن سب سے بڑی بات جس کا ہمیں ہر وقت فکر رکھنا چاہیے ، وہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کا کا ، یہ ایمان اور اس کے اخلاق درست رہیں۔ہمیں اپنی تعداد پر بھی اس قدر اطمینان کا اظہار نہیں کرنا چاہیے جس قدر اس بات کا ہمیں فکر رکھنا چاہیے کہ ہماری جماعت کے اخلاق اور اس کی عادات میں کس حد تک ترقی ہو رہی ہے۔