خطبات محمود (جلد 24) — Page 314
$1943 314 خطبات محمود خاص قانون ہی ہو سکتا ہے اور اس کا خاص قانون ہی تھا کہ ایک بیمار آدمی نے جب اپنی بیماری کی حالت میں محنت کی اور ایک کمزور آدمی نے جب اپنی کمزوری کی حالت میں مشقت برداشت کی تو بجائے اس کے کہ وہ اور زیادہ بیمار اور زیادہ کمزور ہو تاوہ اپنے اندر پہلے سے زیادہ طاقت اور قوت محسوس کرنے لگ گیا۔در حقیقت اللہ تعالیٰ کے اسی قسم کے انعامات ہی ہیں جو ہمارے دلوں میں اس کی محبت کا زیادہ سے زیادہ یقین پیدا کرتے ہیں اور ہم اس کے اتنے قریب ہو جاتے ہیں کہ انبیاء کے برابر ہونے کا دعویٰ تو ہم نہیں کرتے مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کے نتیجہ میں ایسا یقین ہمارے دلوں میں پید اہو جاتا ہے کہ دنیا کا کوئی ابتلاء، دنیا کی کوئی ٹھو کر، دنیا کی کوئی مصیبت، دنیا کا کوئی خطرہ اور دنیا کی کوئی دھمکی ہمارے ایمان میں تذبذب پیدا نہیں کر سکتی۔بلکہ ہمارا یقین اور وثوق ان دھمکیوں، ان مصیبتوں اور ان خطرات سے اور بھی بڑھ جاتا ہے۔اور ہم ایمان کے جس درجہ پر ہوتے ہیں ان خطرات، دھمکیوں اور مصیبتوں کے بعد ایمان کے اس سے اوپر کے درجہ میں پہنچے ہوئے ہوتے ہیں۔میں نے جلسہ سے دو چار دن پہلے ایک رؤیا دیکھا تھا جس میں مجھے اپنی جماعت کا ایک نوجوان نظر آیا۔وہ نوجوان مجھے ملا اور میں نے اس سے کہا کہ میں نے ایسا رویا دیکھا ہے۔وہ کہنے لگا میں تو آگیا ہوں۔میں نے کہا اس سے یہ مراد نہیں ہو سکتی بلکہ اس سے یقیناً کچھ اور مراد ہے۔میں جس وقت لاہور سے قادیان آنے لگا ہوں تو میں اپنی طبیعت پر یہ بوجھ محسوس کر رہا تھا کہ میں کس طرح جلسہ کے کام کا بار اٹھا سکوں گا۔اسی طرح میری طبیعت پر اس امر کی وجہ سے بھی بڑا بوجھ تھا کہ جبکہ پہلے قادیان آنے کے لئے چار پانچ گاڑیاں چلتی تھیں اور پھر بھی مسافران میں سما نہیں سکتے تھے۔تو اب صرف دو گاڑیوں کی وجہ سے کس قدر شدید تکلیف ہماری جماعت کے دوستوں کو برداشت کرنی پڑے گی۔اسی اثنا میں میں نے رویا میں دیکھا کہ ہماری جماعت کے ایک نوجوان جو پہلے قادیان میں ہی پڑھا کرتے تھے اور جن کا نام عبد الحمید ہے آئے ہیں اور انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا۔میں ان سے کہتا ہوں کہ تم کہاں؟ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔یہ دوست جلسہ سالانہ پر ہمیشہ آیا کرتے ہیں۔اس سال بھی جب آئے اور مجھے ملے تو میں نے انہیں بتایا کہ میں نے اس طرح رو یاد دیکھا ہے۔وہ کہنے لگے میں تو آگیا ہوں۔