خطبات محمود (جلد 24) — Page 206
$1943 206 21 خطبات محمود انسان کو اپنے اعمال کی حقیقت معلوم ہونی چاہیئے (فرمودہ 24 ستمبر 1943ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: انسانی قلوب مختلف حالات کے ماتحت مختلف تاثرات کو اختیار کرتے ہیں اور یہی ایک ایسی چیز ہے جو کہ انسان کو بسا اوقات خطرہ سے بچاتی ہے۔رسول کریم صلی ا یکم فرماتے ہیں کہ بعض اوقات انسان ایسا ہو تا ہے کہ وہ نیکی میں اتنا بڑھتا ہے کہ اس کے جنتی ہونے میں کسی کو شک نہیں رہتا اور وہ جنت کے عین دروازے پر جا پہنچتا ہے مگر اس کے اندر کوئی ایسی بات مخفی ہوتی ہے کہ جس کی وجہ سے اس کا جنت میں جانا بالکل انصاف کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔پس آخری وقت میں اسے دوزخ کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔پھر فرمایا کہ بعض اوقات انسان ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنی نافرمانی کی وجہ سے ایک خوفناک شرارت کا نمونہ بن جاتا ہے۔جس کی وجہ سے دنیا اس کے متعلق یہ خیال کرتی ہے کہ یہ دوزخ کی طرف جا رہا ہے لیکن اس کے اندر بھی ایک ایسی نیکی مخفی ہوتی ہے جو اس کو جھٹکالگا کر آخر کار نیکی کی طرف مائل کر کے جنت میں پہنچادیتی ہے۔1 نبی کریم صلی لنی کیم کے اس فرمان سے ہمیں ایک سبق حاصل ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے کسی کام پر تکبر اور خود پسندی نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ انسانی اعمال کو بعض ناموں سے بھی غلطی لگ جاتی ہے اور انسان یہ خیال کرتا ہے کہ یہ کام میں نے کئے ہیں، میں نے نیکی کی ہے، میں نے احسان کیا ہے ، میں نے ایثار کیا ہے، میں نے خدا