خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 104

$1943 104 خطبات محمود تا کہ دنیا کو بھی اسی طرح سکھا سکوں۔وہ سائنس، اخلاق، فلسفہ غرضیکہ ہر شعبہ علم کے متعلق سوچتا ہے کہ انہیں اسلامی تعلیم کے مطابق کرنے کے لئے کیا تبدیلیاں ضروری ہیں۔وہ قرآن کریم، احادیث، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات اور آپ کی کتب کا مطالعہ کرتا، ان پر غور کرتا اور ان میں سے ہیرے اور جواہرات نکال کر ایک خوبصورت ہار تیار کر کے پہلے اپنی گردن کو اس سے مزین کرتا ہے اور پھر ان لوگوں کے لئے جن کی تربیت اس کے سپر د ہونے والی ہے مزین کرنے کا سامان مہیا کرتا ہے۔ایسا شخص مُردہ نہیں ہو سکتا جس نے کانیں کھود کر اور سمندر میں غوطہ لگا کر ہیرے اور موتی نکالنے ہیں۔ست اور غافل شخص ایسا نہیں کر سکتا۔ایک ہل چلا کر اپنے کام کو ختم سمجھنے والا زمیندار سکول میں گیٹ (cat) پڑھا دینے والا مدرس یا دکان پر دوسیر آٹا اور ایک سیر نمک فروخت کرنے والا دکاندار کانیں کھود کر اور سمندر میں غوطہ لگا کر یہ موتی نہیں نکال سکتا بلکہ ایسا انسان بالکل ناکارہ وجود ہے۔کام کا وجو د وہ ہے جو گو ہل چلاتا ہے۔مگر جب اس کا ہاتھ بل پر ہوتا ہے اس کا دل یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ جب دنیا بدلے گی اور لوگوں کو پڑھانے کا کام میرے سپرد ہو گا تو میں اسے کس طرح سر انجام دوں گا۔وہ خیال کرتا ہے کہ میں تو خود پڑھا ہوا نہیں ہوں دوسروں کو کیسے پڑھاؤں گا۔پھر یہ سوچ کر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو پڑھنا شروع کرتا اور بار بار پڑھتا ہے۔اور ان میں بیان فرمودہ تفسیر القرآن کو سیکھتا ہے اور اس طرح اطمینان حاصل کرتا ہے کہ اب میں دوسروں کو پڑھانے کے قابل ہو سکوں گا۔اس وقت تو بعض احمدیوں کی مثال اس پٹھان کی سی ہے جس کے متعلق کہتے ہیں کہ اس نے ایک ہندو کو پکڑا اور تلوار نکال کر کہنے لگا کہ کلمہ پڑھ۔اس نے پروٹسٹ کیا اور کہا کہ میں تو ہندو ہوں مجھ سے کلمہ نہ پڑھوائیں۔مجھے اپنے مذہب پر قائم رہنے دیں مگر پٹھان پر کوئی اثر نہ ہوا۔اس نے کہا جو مسلمان کسی کا فر کو مسلمان کرے وہ جنت میں جاتا ہے۔اس لئے میں ضرور تمہیں کلمہ پڑھاؤں گا۔ہندو نے بہت منت سماجت کی مگر اس نے ایک نہ سنی اور کہا کہ ایسا موقع بار بار نہیں مل سکتا۔میں کلمہ پڑھا کر چھوڑوں گا۔آخر جب اس ہندو نے سمجھا کہ اپنے دیوی دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لئے اتنا احتجاج کافی ہے تو اس نے کہا اچھا خان صاحب