خطبات محمود (جلد 23) — Page 588
خطبات محمود 588 ہجوم خلق سے ارضِ حرم ہے $1942 آج دنیا ہماری شدید ترین مخالف ہے مگر پھر بھی خدا تعالیٰ اپنی نصرت و تائید کا یہ کیسا عظیم الشان نشان دکھلاتا چلا آرہا ہے کہ لوگ دور دور سے اور نہایت کثرت کے ساتھ قادیان آتے ہیں بلکہ ایسے ایسے علاقوں سے لوگ قادیان آتے ہیں کہ نہ ان کی زبان کو ہم سمجھتے ہیں اور نہ ہماری زبان کو وہ سمجھتے ہیں۔وہ مسکرا مسکرا کر ہی اپنی دلی خواہش کو پورا کر کے چلے جاتے ہیں۔ان کے مسکرانے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمیں الفاظ کے ذریعہ اپنی دلی محبت کا اظہار کرنا نہیں آتا۔آپ ہمارے مسکرانے سے ہی سمجھ لیجئے کہ ہمارے دل میں ایمان پایا جاتا ہے۔پس حج اور جلسہ دونوں کو جمعہ کے دن دیکھ کر میں نے ایک نیک فال سمجھی۔اگر اتفاقیہ طور پر ہمارا جلسہ جمعہ کے دن شروع ہو تا تو یہ بالکل اور بات ہوتی مگر اس دفعہ اللہ تعالیٰ جبر آہمارے جلسہ کو جمعہ کے دن لے آیا اور اس نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ ہم مجبور ہو گئے کہ جمعہ کے دن ہی اپنے جلسہ کو شروع کریں۔پس میں نے اس فال سے سمجھا کہ شاید اللہ تعالیٰ قریب زمانہ میں ہی احمدیت کی ترقی کی کوئی ایسی صورت پیدا کرنے والا ہے جو مکہ کے ساتھ اس کے ظل ہونے کے لحاظ سے وابستہ ہے اور اس ترقی کا نفاذ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت جلد ہونے والا ہے کیونکہ ان دونوں ہجوموں کو ایک نئے حادثہ اور غیر طبعی حالات نے اکٹھا کر دیا ہے اور دونوں جمعہ کے دن ہی ہوئے ہیں۔پس آج جبکہ ہمارا جلسہ شروع ہے۔میں اپنے ان طبعی جذبات کے اظہار سے نہیں رک سکا۔باقی ہمیں چاہئے کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو جلد سے جلد پورا کرنے کی کوشش کریں اور اپنی تمام طاقتیں اس غرض کے لئے وقف کر دیں۔اگر خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ پھر اسلام کی ترقی ہو اور پھر محمد صلی اہل علم کی طرف ساری دنیا کو کھینچ کر لائے اور ہماری طبعی خواہش بھی یہی ہے کہ ضرور ایسا ہو۔تو ہمیں بھی خدا تعالیٰ کے اس ارادہ کو پورا کرنے کے لئے دن رات ایک کر دینا چاہئے۔یا د ر کھو بعض وقت چھوٹے چھوٹے کاموں اور چھوٹی چھوٹی محنتوں کا بہت بڑا اجر مل جاتا ہے۔دنیا میں اس قسم کے کئی واقعات ہوتے ہیں کہ کوئی بادشاہ کسی جنگل میں سے گزر رہا ہوتا ہے ، اسے سخت پیاس لگی ہوئی ہوتی ہے مگر پانی کہیں نہیں ملتا۔اتفاقاً پاس ہی کوئی جھونپڑی دکھائی دیتی ہے اور اس میں بیٹھے ہوئے شخص کے پاس پانی ہوتا ہے۔وہ ایک