خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 576

$1942 576 (42) خطبات محمود حج اور جلسہ سالانہ کے جمعہ کو شروع ہونے سے نیک فال (فرمودہ 25 دسمبر 1942ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اس دفعہ ایسے سامان ہو گئے کہ باوجود اس کے کہ ہمارا جلسہ ہفتہ سے شروع ہونا چاہئے تھا وہ جمعہ سے شروع ہوا ہے کیونکہ گورنمنٹ کی طرف سے جو چھٹیاں دی گئیں وہ صرف جمعہ اور ہفتہ کی تھیں اور باقی چھٹیاں جو پہلے دی جایا کرتی تھیں گورنمنٹ کی ضرورتوں کے لحاظ سے منسوخ کر دی گئیں۔اس وجہ سے غیر معمولی طور پر یہ جلسہ جمعہ سے شروع ہوا ہے۔مجھے اس میں ایک بڑی فال نیک نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ اس دفعہ حج بھی جمعہ کے دن تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قادیان کو بھی اس حج کا ایک ظل قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ بھی اس کا خدا نے ایک رنگ میں ظہور بنایا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں۔ہجوم خلق سے ارضِ حرم ہے 1 نادانوں نے اس کی حکمت کو نہ سمجھتے ہوئے کہہ دیا کہ قادیانی لوگ اپنے جلسہ کو حج کہتے ہیں حالانکہ یہ پاگل پن کی بات ہے۔نہ ہم اسے حج کہتے ہیں اور نہ جسے خدا نے حج قرار دیا اسے کوئی اور شخص منسوخ کر سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو آنحضرت صلی الیم کے ظل تھے۔آپ کے شاگرد اور غلام تھے۔حج کو تو محمد رسول اللہ صلی للی علم بھی بدل نہیں سکتے تھے کیونکہ وہ خدا کی مقرر کردہ چیز ہے جسے کوئی انسان بدل نہیں سکتا جو کچھ ہم کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہمارا جلسہ حج کا ایک ظل ہے اور کسی چیز کو ظل قرار دینے سے اصل کی شان بڑھا کرتی ہے