خطبات محمود (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 589

خطبات محمود (جلد 23) — Page 432

* 1942 432 خطبات محمود کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے۔اس کی دنیا کی مصیبتیں دور کر دو، کوئی کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے۔اسے صاحب اولاد صالح بنا دو، کوئی اور کام کرتا ہے تو اللہ تعالی مثلاً یہ فتویٰ دے دیتا ہے کہ اس نے برا کام کیا ہے، اسے فلاں سزا دے دو پھر کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اس کی روزی میں کشائش کر دو پھر کوئی اور اچھا کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کی آئندہ نسل میں کچھ عرصہ تک نیکی قائم کر دو۔اسی طرح کوئی اور نیکی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ دنیا میں کچھ عرصہ تک اس کا ذکر خیر پھیلا دو، کوئی اور کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے متعلق حکم دیتا ہے کہ اسے جنت میں داخل کر دو۔کوئی اور نیکی کا کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اسے جنت کے اعلیٰ مقام میں لے جاؤ مگر روزوں کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ جو شخص صحیح طور پر اخلاص اور محبت اور نیک نیتی سے روزے رکھتا ہے ، اس کے بدلہ میں ہم یہ نہیں کہتے کہ جاؤ، ہم نے تمہاری اولاد کو صالح بنا دیا۔ہم یہ نہیں کہتے کہ جاؤ اس کے بدلے میں ہم نے تمہارے غم اور فکر کو دور کر دیا۔ہم یہ نہیں کہتے کہ جاؤ اس کے بدلہ میں ہم نے تمہاری روزی میں کشائش پیدا کر دی۔ہم یہ نہیں کہتے کہ جاؤ اس کے بدلہ میں ہم نے دنیا میں کچھ عرصہ تک تمہارا ذکر خیر قائم کر دیا۔ہم یہ نہیں کہتے کہ جاؤ، اس کے بدلہ میں ہم نے تمہیں جنت کے فلاں ادنی درجہ میں رکھ دیا ہے۔نہ ہم جواب میں یہ کہتے ہیں کہ ہم نے تمہیں جنت کا درمیانہ درجہ دے دیا ہے اور نہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم نے تمہیں اس کے بدلہ میں جنت کے اعلیٰ سے اعلیٰ مقام تک پہنچا دیا ہے بلکہ رسول کریم صلی الی یم فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم روزے شرائط کی پابندی کے ساتھ رکھتے ہو ر مضان کا احترام قائم کرتے ہوئے رکھتے ہو اور اخلاص اور تقویٰ اور محبت سے رکھتے ہو۔تو ہم کہتے ہیں لو ہم نے تمہیں اپنا آپ دے دیا۔یہ کتنا چھوٹا سا فقرہ ہے مگر کتنے وسیع مطالب اس کے اندر پائے جاتے ہیں۔بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑی چیز ہے۔پس یہ چیز جنت کے اعلیٰ سے اعلیٰ مقامات ملنے کے بعد حاصل ہونی چاہئے نہ کہ پہلے مگر یہ درست نہیں، جہاں بدلے کا سوال ہوتا ہے وہاں تو اعلیٰ اور ادنی میں فرق کیا جاتا ہے مگر جہاں عشق کا سوال ہوتا ہے۔وہاں ادنی اور اعلیٰ میں اس رنگ میں فرق نہیں کیا جاتا۔اگر اللہ تعالیٰ اعلیٰ سے اعلیٰ انعام کے