خطبات محمود (جلد 22) — Page 542
* 1941 خطبات محمود 542 یہی حال روزوں کا ہے۔یہی حال زکوۃ کا ہے۔یہی حال حج کا ہے۔جب میں حج کرنے کے لئے گیا تو سورت کے علاقہ کے ایک نوجوان تاجر کو میں نے دیکھا۔جب وہ منی کی طرف جا رہا تھا تو بجائے ذکر الہی کرنے کے اردو کے نہایت ہی گندے عشقیہ اشعار پڑھتا جا رہا تھا۔اتفاق کی بات ہے کہ جب میں واپس آیا تو جس جہاز میں میں سفر کر رہا تھا اسی جہاز میں وہ بھی واپس آ رہا تھا۔مگر وہی نوجوان جس کے دل میں حج کا کچھ بھی احترام نہیں تھا اور جو عبادت اور ذکر الہی میں مشغول رہنے کی بجائے منی کو جاتے ہوئے عشقیہ اشعار پڑھتا جا رہا تھا۔اسے یہ کر کے کہ میں احمدی ہوں اس قدر غصہ پیدا ہوا کہ ایک دن جبکہ میں جہاز میں ٹہل رہا تھا وہ عجیب حسرت کے ساتھ میری طرف دیکھ کر کہنے لگا۔اُف! یہ جہاز بھی ڈوب نہیں جاتا جس پر یہ شخص سفر کر رہا ہے۔گویا احمدیت اس کے نزدیک اتنی بڑی چیز تھی کہ اگر جہاز کے سارے مسافر ڈوب جاتے اور وہ خود بھی ڈوب جاتا قربانی کوئی بڑی نہ تھی۔اگر اس قربانی کے نتیجہ میں ایک احمدی بھی غرق ہو معلوم۔جاتا۔اُس وقت تک اسے یہ معلوم ہو چکا تھا کہ میں کون ہوں۔کچھ دنوں کے بعد موقع پا کر میں نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ حج کے لئے کیوں آئے تھے۔میں نے تو دیکھا ہے کہ آپ منی کو جاتے ہوئے بھی ذکر الہی نہیں کر رہے تھے۔اس نے کہا اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں حاجی کی دکان سے لوگ سودا زیادہ خریدا کرتے ہیں۔جہاں ہماری دکان ہے۔اس کے بالمقابل ایک اور دکان بھی ہے۔وہ حج کر کے گیا اور اس نے اپنی دکان پر حاجی کا بورڈ لگا لیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے گاہک بھی ادھر جانے لگ گئے۔یہ دیکھ کر میرے باپ نے مجھے کہا کہ تو بھی حج کر آ۔تاکہ واپس آکر تو بھی حاجی کا بورڈ اپنی دکان پر لگا سکے۔اب کیا سمجھتے ہو کہ اس کا حج اس کے لئے ثواب کا موجب ہوا ہو گا۔ثواب کا تو کیا سوال ہے۔اس کا حج یقینا اسے گناہ کے طور پر لگا ہو گا اور فرشتے اس پر لعنتیں ڈالتے ہوں گے۔تو انسان کو اپنے کاموں میں ہمیشہ یہ امر ملحوظ رکھنا چاہئے کہ اچھے سے اچھا کام