خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 422

* 1941 422 خطبات محمود کر رہا ہوتا ہے جس میں یہ خود بہت زیادہ فائدہ میں رہتا ہے۔وہ میت کے لئے دعا کرتا ہے اور فرشتے اس کے لئے دعا کرتے ہیں۔جب حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے وفات پائی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جنازہ پڑھایا تو آپ بہت دیر تک ان کے لئے دعا کرتے رہے اور جب نماز جنازہ سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ آج ہم نے اپنی ساری جماعت کے لوگوں کا جنازہ پڑھا دیا ہے۔میں سمجھتا ہوں اس کا بھی یہی مفہوم تھا کہ آپ نے فرشتوں والا کام کیا یعنی جس طرح فرشتے جب کسی اپنے بھائی کے لئے دعا کرتا دیکھتے ہیں تو خود اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرنے لگ جاتے ہیں۔اسی طرح جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا کہ جماعت کے لوگ خدا تعالیٰ کے ایک نیک بندے کی وفات پر اس کے لئے یہ دعا کر رہے ہیں کہ خدا اس کے مدارج کو بلند کرے، اسے اپنے قرب میں جگہ دے اور اسے اپنی رضا کا مقام عطا کرے تو آپ نے بھی ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا مانگنی شروع کر دی کہ اے خدا! تُو ان دعا کرنے والوں کے مدارج کو بھی بلند فرما، انہیں اپنے قرب میں جگہ دے اور انہیں اپنی رضا کی نعمت سے متمتع فرما۔گویا فرشتوں والا معاملہ آپ نے اپنی جماعت کے تمام افراد سے کیا اور اس طرح سب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی دعا سے حصہ مل گیا۔غرض یہ دعا نہیں ہوتی۔اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ دوست اس جنازہ میں میرے ساتھ شریک ہوں گے۔مجھے کسی شخص نے بتایا نہیں کہ جماعت کو کس حد تک ان معمولی مگر کے جنازہ کی خبر سے واقف کیا گیا تھا اور کس قدر لوگ جنازہ میں شامل ہوئے۔میرے نزدیک ہر مخلص اس بات کو بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ اگر ایسے جنازہ میں شامل ہونے کی انسان کو مقدرت ہو تو اس کے لئے میلوں میل سفر کرنا بھی دوبھر نہیں ہو سکتا۔یہ محض ایک نفع مند سودا ہے اور اپنے فرض کی ادائیگی ہے۔بہر حال جن دوستوں کو ان کے جنازہ میں شریک ہونے کا موقع نہیں ملا۔ان کو اب جمعہ کے بعد انشاء اللہ مل جائے گا اور چونکہ یہ ایک اہم واقعہ ہے اس