خطبات محمود (جلد 22) — Page 106
$1941 106 خطبات محمود دے دیں۔بہت سے لوگ دین کے احکام کو ایک چٹی خیال کر لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے بھی بچ جائیں اس سے بھی بچ جائیں۔مگر صحابہ کی یہ حالت ہوا کرتی تھی کہ وہ چاہتے تھے ہم کو یہ بھی مل جائے ہم کو وہ بھی مل جائے، ہم اس حکم کی بھی فرمانبرداری کریں اور ہم اس کی بھی فرمانبرداری کریں۔یہی وجہ ہے کہ وہ بہت جلد ترقی کر گئے اور بعد میں آنے والے ویسی ترقی حاصل نہ کر سکے کیونکہ رسول کریم صلی املی کام کے پر حکمت کلام کی قدر ان کے دلوں میں نہ رہی۔اگر ان کے دلوں میں بھی رسول کریم صلی الی یوم کے احکام کی وہی قدر ہوتی جو صحابہ کے دلوں میں تھی تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ صحابہ سے پیچھے رہتے۔صحابہ رسول کریم صلی الم کے بتائے ہوئے امور پر چلنے کے لئے ایسے مشتاق تھے کہ معلوم ہوتا ہے وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ ہماری ساری نجات رسول کریم صلیم کی فرمانبر داری میں ہے۔حدیثوں میں ایک واقعہ آتا ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ ان میں کس قدر فرمانبر داری کی روح پائی جاتی تھی بظاہر وہ ایک ایسی بات ہے جسے سن کر کوئی انسان کہہ سکتا ہے کہ یہ کیسی بے وقوفی کی بات ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان کی ترقی کا راز اسی میں مضمر تھا کہ وہ رسول کریم صلی لم کی زبان سے جب کوئی حکم سنتے تو اسی وقت اس پر عمل کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتے۔احادیث میں آتا ہے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ایک دفعہ رسول کریم کی مجلس کی طرف آ رہے تھے۔آپ ابھی گلی میں ہی تھے کہ آپ کے کانوں میں رسول کریم صلی علیکم کی یہ آواز آئی کہ ”بیٹھ جاؤ معلوم ہوتا ہے ہجوم زیادہ ہو گا اور سة کچھ لوگ کناروں پر کھڑے ہوں گے۔رسول کریم صلی اللہ کریم نے انہیں فرمایا۔بیٹھ جاؤ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ جو ابھی مجلس میں نہیں پہنچے تھے اور گلی میں آ رہے تھے۔جب انہوں نے رسول کریم صلی الی یوم کی یہ آواز سنی تو وہ وہیں بیٹھ گئے 1 گئے 1 اور