خطبات محمود (جلد 21) — Page 94
1940 94 خطبات محمود کو کھینچ کر لائے۔اسی طرح اب بھی یہ سبق دوبارہ ان کے لئے تازہ ہو جائے گا۔مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے بعض دوست پرانے لٹریچر کو نہیں پڑھتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض باتوں کا جواب اگر چہ بارہا دیا جا چکا ہے مگر وہ اس شبہ میں رہتے ہیں کہ شاید ان باتوں کا جواب ابھی تک ہماری طرف سے نہیں دیا گیا۔حالانکہ سب باتوں کا جواب پوری تفصیل کے ساتھ ہماری طرف سے دیا جا چکا ہے۔آج اسی سلسلہ میں میں جماعت کے دوستوں کی راہنمائی کے لئے انہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ در حقیقت یہ اختلاف مذہبی بعد میں بنا ہے پہلے یہ صرف دنیوی اختلاف تھا۔یعنی صدرانجمن احمدیہ کے بعض ممبروں کا خیال تھا کہ حضرت خلیفہ اول کی خلافت غاصبانہ ہے اور ان کا کوئی حق نہ تھا کہ وہ خلافت کے عہدہ پر متمکن ہوتے۔حضرت مسیح موعود علیہ ا والسلام کی صحیح جانشین اور قائمقام صدر انجمن احمد یہ ہے۔الصلوة چنانچہ وہ لوگ جو اس زمانہ کے ہیں اُن کو معلوم ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد جو پہلا جلسہ سالانہ ہوا اس میں متواتر صدر انجمن احمدیہ کے ممبروں کی تقریروں میں اس بات پر زور دیا جاتا رہا کہ خدا تعالیٰ کے مامور کی مقرر کردہ جانشین اور خلیفہ صدر انجمن احمد یہ ہے اور بار بار اپنے لیکچروں میں اس کا ذکر کیا جاتا۔غرض 1908ء میں دسمبر کے ایام میں جو جلسہ سالانہ ہوا اور جس کا انتظام مدرسہ احمدیہ کے صحن میں کیا گیا تھا اس وقت کے واقف لوگ جانتے ہیں کہ ان لوگوں نے اس جلسہ کی تقریروں میں بڑے زور سے اس بات کو دہرایا کہ خدا تعالیٰ کے مامور کی مقرر کردہ جانشین صدر انجمن احمد یہ ہے ، خدا تعالیٰ کے مامور کی قائم مقام صدر انجمن احمد یہ ہے، خد اتعالیٰ کے مامور کی خلیفہ صدر انجمن احمد یہ ہے اور اس کی اطاعت تمام جماعت کے لئے ضروری ہے۔حضرت مولوی صاحب ہمارے پیر ہیں لیکن خلیفہ صدر انجمن احمد یہ ہے جس کے وہ صدر ہیں لیکن ان کی یہ تقریریں اب ان کے لئے فائدہ بخش نہیں ہو سکتی تھیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد سب سے پہلے انہی لوگوں نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں درخواست کی تھی کہ آپ خلافت کے بوجھ کو اٹھائیں اور پھر انہی لوگوں نے یہ اعلان کیا جو اُس وقت کے