خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 364

$1940 363 خطبات محمود مگر ابھی تک انہوں نے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا اللہ تعالیٰ ان کے قصوروں کو معاف کر کے ان کی ہمتوں کو بلند کرے اور انہیں ان لوگوں میں شامل نہ کرے جو چشمہ کے پاس پہنچ کر اپنی بد قسمتی سے پیاسے کوٹ جاتے ہیں۔اس کے بعد میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں نے جلسہ سالانہ پر قرآن کریم کی تفسیر کی اشاعت کا وعدہ کیا تھا۔پہلے میرا ارادہ تھا کہ قرآن کریم کی تفسیر کا کام ابتداء سے شروع کروں۔چنانچہ اس سلسلہ میں میں نے بہت سا کام کیا اور کئی سو صفحے نوٹوں کے تیار بھی ہو گئے مگر پھر مجھے خیال آیا کہ قرآن کریم کی تفسیر کا ایک حصہ کئی سال سے اڑھائی سو صفحہ تک چھپا ہوا موجود ہے کیوں نہ پہلے اسے ہی مکمل کر کے شائع کر دیا جائے۔یہ تفسیر دس سے پندرہ پاروں تک چھاپنے کا ارادہ تھا اور اڑھائی سو صفحہ اس تفسیر کا چھپا ہوا موجود ہے۔میں نے خیال کیا کہ اگر پہلے پارہ سے تفسیر شروع کی گئی تو یہ حصہ یو نہی پڑا رہے گا لیکن اگر اسے شائع کر دیا گیا تو کاغذ بھی ضائع ہونے سے بچ جائے گا اور کام بھی جلد مکمل ہو جائے گا۔چنانچہ تفسیر کے اس حصہ کو مکمل کر دیا گیا ہے۔یہ حصہ اگر چہ سورہ یونس سے شروع ہوتا ہے مگر قرآن کریم ایسی کتاب ہے کہ جہاں سے بھی پڑھا جائے اس میں نور اور ہدایت ہوتی ہے۔جیسے رسول کریم ملی لی نے یہ فرمایا ہے کہ أَصْحَابِی كَالنُّجُومِ بِآتِهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ 2 کہ میرے تمام صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔تم ان میں سے جس کی بھی اتباع کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔یہی حال قرآن کریم کا ہے کہ اسے جہاں سے بھی پڑھا جائے اس میں سے انسان کی ہدایت کے خزانے نکلتے چلے آتے ہیں۔میں نے اس کام کا بڑا حصہ خدا کے فضل سے مکمل کر لیا ہے اور دسمبر تک ایک جلد جو بڑے سائز کے سات آٹھ سو صفحات پر مشتمل ہو گی شائع ہو جائے گی۔اگر حقیقۃ الوحی کے سائز پر اسے پھیلایا جائے تو تیرہ چودہ سو صفحات کی کتاب بنتی ہے۔جلسہ سالانہ تک انشاء اللہ یہ جلد شائع ہو جائے گی۔اس کے متعلق ایک اعلان تو میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ جن دوستوں نے اس کی قیمت پیشگی ادا کی ہوئی ہے اور ان کو اس حصہ کا ایک جزو برائے مطالعہ بھجوا دیا گیا تھا جو 456 صفحات پر مشتمل تھا اب وہ اس حصہ کو واپس کر دیں تاکہ بقیہ حصہ اس کے ساتھ شامل کر کے اور کتاب کو مجلد کرا کے جلسہ سالانہ پر انہیں دی جاسکے۔اگر وہ تفسیر کا